Sunan Abi Dawood Hadith 690 (سنن أبي داود)
[690] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (943)
ابن عمرو بن حریث وجدہ مجہولان (تقریب: 8272،1183)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ جَدِّہِ حُرَيْثٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ﷺ قَالَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِہِ ہَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَجِئْ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ قَالَ قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّہُمْ يَخْتَلِفُونَ فِيہِ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أَحْفَظُ إِلَّا أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ سُفْيَانُ قَدِمَ ہَاہُنَا رَجُلٌ بَعْدَ مَا مَاتَ إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَطَلَبَ ہَذَا الشَّيْخُ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّی وَجَدَہُ فَسَأَلَہُ عَنْہُ فَخَلَطَ عَلَيْہِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ ہَكَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْہِلَالِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت مُسَدَّدًا قَالَ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ الْخَطُّ بِالطُّولِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ ہَكَذَا يَعْنِي بِالْعَرْضِ حَوْرًا دَوْرًا مِثْلَ الْہِلَالِ يَعْنِي مُنْعَطِفًا
جناب ابومحمد بن عمرو بن حریث اپنے دادا حریث سے جو بنی عذرہ کے آدمی تھے،وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے،وہ سیدنا ابوالقاسم ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور لکیر کھینچنے والی حدیث بیان کی۔سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی کوئی دلیل نہیں ملی جس سے ہم اس حدیث کو تقویت دے سکیں اور یہ صرف اسی سند سے مروی ہے۔(ابن مدینی نے کہا) میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ محدثین اس کے راوی میں اختلاف کرتے ہیں (آیا یہ ابومحمد بن عمرو بن حریث ہے یا کوئی اور) تو انہوں نے کچھ سوچا اور پھر کہا: مجھے ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے۔سفیان نے کہا کہ اسمٰعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک آدمی آیا اور اس (آنے والے) شیخ نے ابومحمد کو طلب کیا،وہ مل گیا اور اس حدیث کے متعلق پوچھا مگر اسے اشتباہ ہو گیا (یعنی وہ اسے صحیح طریقے سے بیان نہیں کر سکا)۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا،انہوں نے کئی بار خط کھینچنے کا وصف بیان کیا تو کہا کہ اس طرح عرض میں کھینچا جائے جیسے کہ ہلال ہوتا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے مسدد سے سنا انہوں نے کہا کہ ابن داود (ابن داود خریبی) نے کہا کہ یہ خط طول میں کھینچا جائے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا انہوں نے کئی بار اس خط کی صفت یہ بتائی کہ یہ عرض میں ہو اور ہلال کی مانند گولائی میں ہو۔