Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 693 (سنن أبي داود)

[693] إسنادہ ضعیف

ضباعۃ بنت المقداد: لاتعرف (تقریب: 8630)

والمھلب بن حجر :مجہول (تقریب: 6936)

والولید بن کامل: لین الحدیث (تقریب: 7450)

قال معاذ علي زئي: وقال عبد الحق الاشبیلی: ’’لیس اسنادہ بقوی‘‘ (الاحکام الوسطیٰ: 1/ 343،344)

انوار الصحیفہ ص 37

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ عَنْ الْمُہَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَہْرَانِيِّ عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيہَا قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يُصَلِّي إِلَی عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَہُ عَلَی حَاجِبِہِ الْأَيْمَنِ أَوْ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَہُ صَمْدًا

سیدہ ضباعہ بنت مقداد بن اسود اپنے والد (سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتی ہیں،انہوں نے کہا،میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی لکڑی،ستون یا درخت کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ اپنے دائیں یا بائیں ابرو کی طرف رکھتے،بالکل عین سامنے نہ رکھتے تھے۔