Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 701 (سنن أبي داود)

[701]صحیح

صحیح بخاری (510) صحیح مسلم (507)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِيَّ أَرْسَلَہُ إِلَی أَبِي جُہَيْمٍ يَسْأَلُہُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُہَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْہِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْہِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَہْرًا أَوْ سَنَةً

جناب زید بن خالد جہنی نے انہیں (بسر بن سعید کو) سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور پچھوایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ تو سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو اگر معلوم ہو جائے کہ اس پر کتنا گناہ اور عذاب ہے تو (اس کے بدلے) اسے چالیس کھڑا رہنا،اس کے آگے سے گزرنے سے اچھا لگے۔‘‘ ابونضر نے کہا: نہ معلوم آپ نے چالیس کے لفظ کے ساتھ دن،مہینہ یا سال،کیا فرمایا؟