Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 716 (سنن أبي داود)

[716]إسنادہ حسن

أخرجہ النسائي (755 وسندہ حسن) والحاکم بن عتیبۃ صرح بالسماع عند ابن خزیمۃ (835)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ أَبِي الصَّہْبَاءِ قَالَ تَذَاكَرْنَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَی حِمَارٍ وَرَسُولُ اللہِ ﷺ يُصَلِّي فَنَزَلَ وَنَزَلْتُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ أَمَامَ الصَّفِّ فَمَا بَالَاہُ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَخَلَتَا بَيْنَ الصَّفِّ فَمَا بَالَی ذَلِكَ

جناب ابوالصہباء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس میں ہمارا مذاکرہ ہوا کہ کس چیز سے نماز ٹوٹتی ہے تو آنجناب نے بیان کیا کہ میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے،چنانچہ وہ اترا اور میں بھی اور ہم نے گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا،تو آپ نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔اور بنی عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں اور صف میں داخل ہو گئیں آپ نے ان کی بھی کوئی پروا نہ کی۔