Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 718 (سنن أبي داود)

[718] إسنادہ ضعیف

نسائی (754)

عباس بن عبیداﷲ لم یدرک عمہ الفضل بن عباس رضي اللہ عنھما (تہذیب التہذیب 123/5 ت 215) فالسند منقطع

قال معاذ علي زئي: وقال عبد الحق الاشبیلی فی حدیث النسائی: ’’إسنادہ ضعیف‘‘ (الاحکام الوسطیٰ: 1/ 344)

انوار الصحیفہ ص 38

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَہُ عَبَّاسٌ فَصَلَّی فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْہِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْہِ فَمَا بَالَی ذَلِكَ

سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم باہر اپنے دیہات میں تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔آپ ﷺ نے صحراء میں نماز پڑھی آپ ﷺ کے سامنے سترہ نہ تھا۔ہماری گدھی اور کتیا آپ کے سامنے کھیل رہی تھیں اور آپ نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔