Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 720 (سنن أبي داود)

[720]حسن

انظر الحدیث السابق (719)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ قَالَ مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَہُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَہُ ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُہَا شَيْءٌ وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّہُ شَيْطَانٌ قَالَ أَبُو دَاوُد إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ نُظِرَ إِلَی مَا عَمِلَ بِہِ أَصْحَابُہُ مِنْ بَعْدِہِ

جناب ابوالوداک بیان کرتے ہیں کہ قریش کا ایک نوجوان سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے آگے سے گزرنے لگا،جب کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے،تو انہوں نے اس کو روکا۔وہ پھر آیا،تو انہوں نے اسے روکا۔تین دفعہ ایسا ہی ہوا۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے،تو فرمایا: نماز کو کوئی شے نہیں توڑتی مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’(گزرنے والے کو) جہاں تک ہو سکے روکو،بلاشبہ وہ شیطان ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ سے دو حدیثیں ایک دوسرے کے خلاف منقول ہوں تو دیکھا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے بعد کیا عمل اختیار کیا تھا۔