Sunan Abi Dawood Hadith 733 (سنن أبي داود)
[733] إسنادہ ضعیف
الحدیث الآتی (966)
عیسی بن عبد اللہ بن مالک:مجہول الحال،لم یوثقہ غیر ابن حبان
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ،حَدَّثَنِي زُہَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ،حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ،حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَالِكٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ،أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ،عَنْ عَبَّاسٍ أَو عَيَّاشِ بْنِ سَہْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّہُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيہِ أَبُوہُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو ہُرَيْرَةَ،وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ،وَأَبُو أُسَيْدٍ بِہَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ قَالَ فِيہِ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ يَعْنِي مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ اللہُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَرَفَعَ يَدَيْہِ،ثُمَّ قَالَ: اللہُ أَكْبَرُ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَی كَفَّيْہِ وَرُكْبَتَيْہِ وَصُدُورِ قَدَمَيْہِ وَہُوَ سَاجِدٌ،ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَہُ الْأُخْرَی،ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ،ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ،ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ،قَالَ:،ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّی إِذَا ہُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْہَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرَةٍ،ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ فِي التَّشَہُّدِ ،
جناب عباس یا عیاش بن سہیل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں حاضر تھے جس میں ان کے والد بھی موجود تھے اور وہ صحابی رسول تھے اور اسی طرح اس مجلس میں ابوہریرہ،ابو حمید ساعدی اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے۔(عیسیٰ بن عبداللہ نے) یہی خبر بیان کی،کسی قدر کمی بیشی کے ساتھ۔اور اس میں کہا: پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا یعنی رکوع سے تو کہا: ((سمع اللہ لمن حمدہ)) اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (یعنی رفع یدین کیا)۔پھر کہا ((اللہ اکبر)) پھر سجدہ کیا اور اپنی ہتھیلیوں،گھٹنوں اور پنجوں کو زمین پر ٹکایا،پھر ((اللہ اکبر)) کہا اور بیٹھ گئے اور سرین پر بیٹھے (تورک کیا) اور دوسرے قدم کو کھڑا کیا پھر ((اللہ اکبر)) کہا اور دوسرا سجدہ کیا،پھر ((اللہ اکبر)) کہا اور کھڑے ہو گئے مگر تورک نہیں کیا (یعنی سرین پر نہ بیٹھے)،اور حدیث بیان کی،کہا کہ دو رکعت کے بعد بیٹھ گئے،حتیٰ کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے اور دوسری دو رکعتیں پڑھیں اور تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا۔