Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 746 (سنن أبي داود)

[746]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ الْمَعْنَی عَنْ عِمْرَانَ عَنْ لَاحِقٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَہِيكٍ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ ﷺ لَرَأَيْتُ إِبِطَيْہِ زَادَ عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ يَقُولُ لَاحِقٌ أَلَا تَرَی أَنَّہُ فِي الصَّلَاةِ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَزَادَ مُوسَی بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ يَعْنِي إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْہِ

جناب بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نبی کریم ﷺ کے آگے ہوتا تو میں آپ کی بغلیں دیکھ سکتا تھا۔(یعنی آپ ﷺ کے ہاتھ رفع یدین کے وقت نمایاں طور پر بغلوں سے علیحدہ،دور اور اونچے ہوتے تھے۔) ابن معاذ نے کہا کہ لاحق نے کہا: بھلا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں ہوتے ہوئے نبی کریم ﷺ سے آگے کیوں کر ہو سکتے تھے؟ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے: (مقصد یہ ہے کہ) جب آپ ﷺ تکبیر کہتے تو ہاتھ اونچے کرتے تھے (یعنی نمایاں طور پر اونچے کرتے تھے)۔