Sunan Abi Dawood Hadith 760 (سنن أبي داود)
[760]صحیح
صحیح مسلم (771)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ عَمِّہِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ كَبَّرَ،ثُمَّ قَالَ: وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ،إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،لَاشَرِيكَ لَہُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ،اللہُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَہَ لِي إِلَّا أَنْتَ،أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ،ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّہُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ،وَاہْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَہْدِي لِأَحْسَنِہَا إِلَّا أَنْتَ،وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَہَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَہَا إِلَّا أَنْتَ،لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّہُ فِي يَدَيْكَ،وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ،تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ،أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ،وَإِذَا رَكَعَ،قَالَ: اللہُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي،وَإِذَا رَفَعَ،قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَہُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ،مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ،وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: اللہُمَّ لَكَ سَجَدْتُ،وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ،سَجَدَ وَجْہِي لِلَّذِي خَلَقَہُ وَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُورَتَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ،وَتَبَارَكَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ،وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ،قَالَ: اللہُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ،
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہرسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ((اللہ اکبر)) کہتے پھر یہ دعا پڑھتے ((وجہت وجہی للذی فطر السموات والأرض حنیفا مسلما وما أنا من المشرکین إن صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک أمرت وأنا أول المسلمین اللہم أنت الملک لا إلہ لی إلا أنت أنت ربی وأنا عبدک ظلمت نفسی واعترفت بذنبی فاغفر لی ذنوبی جمیعا إنہ لا یغفر الذنوب إلا أنت واہدنی لأحسن الأخلاق لا یہدی لأحسنہا إلا أنت واصرف عنی سیئہا لا یصرف سیئہا إلا أنت لبیک وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک والشر لیس إلیک أنا بک وإلیک تبارکت وتعالیت أستغفرک وأتوب إلیک)) ’’میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔میں اسی کی طرف یکسو ہوں،اسی کا مطیع فرمان ہوں،اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔بلاشبہ میری نماز،میری قربانی،میرا جینا اور مرنا اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔اس کا کوئی ساجھی نہیں ہے۔مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں اولین اطاعت گزاروں میں سے ہوں۔اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے،تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں۔تو میرا پالنہار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔میں نے اپنی جان پر زیادتی کی ہے۔مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔پس میرے سب گناہ معاف فرما دے۔تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی معاف نہیں کر سکتا۔میری عمدہ اخلاق و عادات کی طرف رہنمائی فرما۔اچھے اخلاق و عادات کی توفیق تجھی سے مل سکتی ہے۔برے اخلاق و عادات مجھ سے دور فرما دے۔بری عادتوں کو تو ہی پھیر سکتا ہے۔میں تیرے دربار میں حاضر ہوں۔پھر حاضر ہوں۔تیرا مطیع فرمان ہوں پھر تیرا مطیع فرمان ہوں۔خیر اور بھلائی ساری کی ساری تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور کسی شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے۔میں تیرا ہوں اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے۔تو بڑی برکتوں والا اور رفعتوں والا ہے اور میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری جانب توبہ کر رہا ہوں۔‘‘ اور جب رکوع کرتے تو یوں کہتے: ((اللہم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع لک سمعی وبصری ومخی وعظامی وعصبی)) ’’اے اللہ! میں تیرے لیے جھک گیا ہوں،تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تیرا مطیع ہوں۔میرے کان،میری آنکھیں،میری ہڈیاں،گودا اور پٹھے سب ہی تیرے سامنے عاجزی کا مظہر ہیں۔‘‘ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ((سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بینہما وملء ما شئت من شیء بعد)) ’’اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی حمد کی۔اے ہمارے رب! اور تیری ہی تعریف ہے آسمانوں اور زمین بھر،اور ان کا مابین بھر کر اور اس کے بعد اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے۔‘‘ اور جب سجدہ کرتے تو یوں کہتے: ((اللہم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت سجد وجہی للذی خلقہ وصورہ فأحسن صورتہ وشق سمعہ وبصرہ وتبارک اللہ أحسن الخالقین)) اے اللہ! میں تیرے حضور سجدہ ریز ہوں،تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تیرا مطیع فرمان ہوں۔میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا،اسے شکل دی اور بہترین شکل دی اور اس میں کان اور آنکھیں بنائیں۔بڑی برکتوں والا ہے اللہ جو بہترین پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ اور جب نماز سے سلام پھیرتے،تو یہ دعا کرتے ((اللہم اغفر لی ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم بہ منی أنت المقدم والمؤخر لا إلہ إلا أنت)) ’’اے اللہ! میرے سب گناہ اور میری تمام تقصیریں معاف فرما دے،جو میں پہلے کر چکا اور جو میں نے بعد میں کیں،جو چھپے ہوئے کیں اور جو ظاہر میں کیں اور جو میں حد سے بڑھا رہا اور جن کا تو مجھ سے زیادہ باخبر ہے۔تو ہی (نیکی اور خیر میں) آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘