Sunan Abi Dawood Hadith 764 (سنن أبي داود)
[764]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (807 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (817)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللہِ ﷺ يُصَلِّي صَلَاةً قَالَ عَمْرٌو لَا أَدْرِي أَيَّ صَلَاةٍ ہِيَ فَقَالَ اللہُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللہُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللہُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّہِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّہِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّہِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللہِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا أَعُوذُ بِاللہِ مِنْ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِہِ وَنَفْثِہِ وَہَمْزِہِ قَالَ نَفْثُہُ الشِّعْرُ وَنَفْخُہُ الْكِبْرُ وَہَمْزُہُ الْمُوتَةُ
جناب ابن جبیر بن مطعم اپنے والد (جبیر بن مطعم) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک نماز پڑھتے دیکھا،عمرو نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون سی نماز تھی،تو آپ نے تین بار کہا: ((اللہ أکبر کبیرا اللہ أکبر کبیرا اللہ أکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا والحمد للہ کثیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ وأصیلا)) ’’اللہ سب سے بڑا اور بہت بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا اور بہت بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے اور بہت بڑا ہے اور حمد اللہ ہی کی ہے،بہت زیادہ،حمد اللہ ہی کی ہے اور بہت زیادہ،حمد اللہ ہی کی ہے بہت زیادہ۔اور وہ سب عیوب سے پاک ہے۔صبح و شام اس کی یہ ثنا ہے۔‘‘ (اور بعد میں یہ کلمات بھی پڑھتے) ((أعوذ باللہ من الشیطان من نفخہ ونفثہ وہمزہ)) ’’میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان کے دم،پھونک اور جنون سے۔‘‘ (جناب عمرو بن مرہ نے ان الفاظ کی شرح میں) کہا کہ ((نفث)) سے مراد لغو قسم کی شعر و شاعری ہے ((نفخ)) کا مفہوم تکبر کی انگیخت ہے اور ((ہمز)) کا معنی جنون ہے۔