Sunan Abi Dawood Hadith 773 (سنن أبي داود)
[773]إسنادہ حسن
أخرجہ الترمذي (404 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (992)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ نَحْوَہُ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَمِّ أَبِيہِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَعَطَسَ رِفَاعَةُ لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ رِفَاعَةُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيہِ مُبَارَكًا عَلَيْہِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَی فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ انْصَرَفَ فَقَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْہُ
جناب معاذ بن رفاعہ بن رافع اپنے والد سے بیان کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہمیں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو رفاعہ کو چھینک آ گئی (استاد) قتیبہ نے رفاعہ کا نام نہیں لیا،تو میں نے کہا: ((الحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ مبارکا علیہ کما یحب ربنا ویرضی)) ’’تعریف اللہ کی ہے بہت زیادہ تعریف،پاکیزہ اور بابرکت (یعنی باقی رہنے والی) جیسے کہ ہمارا رب پسند فرمائے اور جس پر راضی اور خوش ہو۔‘‘ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ’’نماز میں کون بول رہا تھا؟‘‘ پھر مالک کی حدیث کی مانند بیان کیا اور اس سے کامل تر بیان کیا۔