Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 774 (سنن أبي داود)

[774] إسنادہ ضعیف

عاصم بن عبید اللہ ضعیف(تقریب التہذیب: 3065) قال النووي: و قد ضعفہ الجمہور (خلاصۃ الأحکام 87/1 ح 98) و قال العیني: و قد ضعفہ الجمہور(عمدۃ القاري 13/11) و قال الھیثمي:وضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 150/8)

انوار الصحیفہ ص 41

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ عَطَسَ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيہِ حَتَّی يَرْضَی رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَی مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ مَنْ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ قَالَ فَسَكَتَ الشَّابُّ ثُمَّ قَالَ مَنْ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ فَإِنَّہُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَنَا قُلْتُہَا لَمْ أُرِدْ بِہَا إِلَّا خَيْرًا قَالَ مَا تَنَاہَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَی

جناب عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہرسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز میں ایک انصاری جوان نے چھینک ماری،تو اس نے کہا: ((الحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ حتی یرضی ربنا وبعد ما یرضی من أمر الدنیا والآخرۃ)) ’’تعریف اللہ کی،بہت ساری تعریف،پاکیزہ،بابرکت،حتیٰ کہ ہمارا رب راضی ہو جائے اور دنیا و آخرت کے معاملے کے بعد جس پر وہ راضی ہو۔‘‘ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا ’’کس نے کلمات کہے ہیں؟‘‘ تو وہ نوجوان خاموش رہا۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’کس نے کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی حرج کی بات نہیں کہی۔‘‘ تب وہ بولا: اے اللہ کے رسول! میں نے کہے ہیں اور میں نے بھلائی ہی کا ارادہ کیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ کلمات عرش رحمٰن سے ورے کہیں نہیں رکے۔(بلکہ براہ راست سیدھے عرش تک جا پہنچے ہیں) بلند ہے ذکر اس کا۔‘‘