Sunan Abi Dawood Hadith 781 (سنن أبي داود)
[781]صحیح
صحیح بخاری (744) صحیح مسلم (598)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عُمَارَةَ الْمَعْنَی عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ فَقُلْتُ لَہُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ أَخْبِرْنِي مَا تَقُولُ قَالَ اللہُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللہُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنْ الدَّنَسِ اللہُمَّ اغْسِلْنِي بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہرسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے تکبیر کہہ لیتے تو تکبیر اور قرآت شروع کرنے کی درمیان قدرے خاموش رہتے۔میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! تکبیر اور قرآت کے درمیان اپنے سکوت کے متعلق ارشاد فرمائیں کہ اس میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا: ((اللہم باعد بینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللہم أنقنی من خطایای کالثوب الأبیض من الدنس اللہم اغسلنی بالثلج والماء والبرد)) ’’اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے،جیسے کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری اور فاصلہ رکھا ہے-اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے ایسے صاف فرما دے جیسے کہ سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔اے اللہ!مجھے برف،پانی اور اولوں سے دھو دے۔‘‘