Sunan Abi Dawood Hadith 785 (سنن أبي داود)
[785] إسنادہ ضعیف
الزھري عنعن وھو مدلس
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَذَكَرَ الْإِفْكَ قَالَتْ جَلَسَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَكَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ وَقَالَ أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ الْآيَةَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَہَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ قَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ لَمْ يَذْكُرُوا ہَذَا الْكَلَامَ عَلَی ہَذَا الشَّرْحِ وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلَامِ حُمَيْدٍ
جناب عروہ کے واسطہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےاور عروہ نے قصہ افک کا ذکر کیا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے اور اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا (( أعوذ بالسمیع العلیم من الشیطان الرجیم * إن الذین جاءوا بالإفک عصبۃ منکم))۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے۔اسے زہری سے محدثین کی جماعت نے روایت کیا ہے مگر انہوں نے یہ کلام (یعنی تعوذ) اس طریقے سے (یعنی یہاں پر) ذکر نہیں کیا اور مجھے اندیشہ ہے کہ شیطان سے ((تعوذ)) کا بیان حمید کا کلام ہو گا۔