Sunan Abi Dawood Hadith 786 (سنن أبي داود)
[786]حسن
أخرجہ الترمذي (3086 وسندہ حسن) یزید الفارسي و ثقہ ابن حبان و الترمذي وغیرہما فھو حسن الحدیث و أخطأ من ضعّف ھذا الحدیث مشکوۃ المصابیح (2222)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہُشَيْمٌ عَنْ عَوْفٍ عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی بَرَاءَةَ وَہِيَ مِنْ الْمِئِينَ وَإِلَی الْأَنْفَالِ وَہِيَ مِنْ الْمَثَانِي فَجَعَلْتُمُوہُمَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَہُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ عُثْمَانُ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ مِمَّا تَنَزَّلُ عَلَيْہِ الْآيَاتُ فَيَدْعُو بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ لَہُ وَيَقُولُ لَہُ ضَعْ ہَذِہِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيہَا كَذَا وَكَذَا وَتَنْزِلُ عَلَيْہِ الْآيَةُ وَالْآيَتَانِ فَيَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ وَكَانَتْ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَّلِ مَا أُنْزِلَ عَلَيْہِ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ وَكَانَتْ قِصَّتُہَا شَبِيہَةً بِقِصَّتِہَا فَظَنَنْتُ أَنَّہَا مِنْہَا فَمِنْ ہُنَاكَ وَضَعْتُہَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَہُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاہُ قَالَ فِيہِ فَقُبِضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّہَا مِنْہَا قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ الشَّعْبِيُّ وَأَبُو مَالِكٍ وَقَتَادَةُ وَثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يَكْتُبْ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَتَّی نَزَلَتْ سُورَةُ النَّمْلِ ہَذَا مَعْنَاہُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہمیں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا بات ہوئی کہ آپ نے سورۃ براۃ،جو ((امئین)) (سو آیتوں والی سورتوں) میں سے ہے،اور سورۃ الانفال کو،جو مثانی میں سے ہے،ملا کر سات طوال سورتوں میں شامل کر دیا ہے اور ان دونوں کے درمیان (( بسم اللہ الرحمن الرحیم)) کی سطر نہیں لکھی ہے۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم ﷺ پر جب قرآن کی آیات نازل ہوتی تھیں تو آپ ﷺ کسی کاتب کو بلا لیتے اور فرماتے ’’اس آیت کو اس سورت میں لکھ دو جس میں فلاں فلاں بیان ہے۔‘‘ پھر ایک دو آیات اترتیں تو اسی طرح فرماتے۔اور سورۃ الانفال ان سورتوں میں سے ہے جو آپ ﷺ کی آمد مدینہ کے شروع ایام میں اتری تھی اور سورۃ براۃ نزول قرآن کے آخری دور کی سورتوں میں سے ہے اور ان کا مضمون آپس میں مشابہ ہے لہٰذا میں نے سمجھا کہ یہ سورۃ براۃ،سورۃ الانفال کا حصہ ہے اور یہیں سے میں نے ان دونوں کو طوال میں درج کر دیا اور ان کے درمیان ((بسم اللہ الرحمن الرحیم)) کی سطر نہیں لکھی۔