Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 790 (سنن أبي داود)

[790]صحیح

صحیح بخاری (700) صحیح مسلم (465)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَسَمِعَہُ مِنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا قَالَ مَرَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِہِ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ ﷺ لَيْلَةً الصَّلَاةَ وَقَالَ مَرَّةً الْعِشَاءَ فَصَلَّی مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّ قَوْمَہُ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَصَلَّی فَقِيلَ نَافَقْتَ يَا فُلَانُ فَقَالَ مَا نَافَقْتُ فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللہِ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا وَإِنَّہُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِكَذَا اقْرَأْ بِكَذَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَی وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ أُرَاہُ قَدْ ذَكَرَہُ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہسیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے اور پھر واپس آ کر ہماری امامت کراتے تھے،عمرو بن دینار نے ایک بار یوں کہا کہ پھر واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے۔ایک رات نبی کریم ﷺ نے تاخیر سے نماز پڑھائی اور ایک بار روایت کیا کہ عشاء کی نماز آپ ﷺ نے تاخیر سے پڑھائی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی۔تو قوم میں سے ایک آدمی علیحدہ ہو گیا اور اس نے الگ ہی اپنی نماز پڑھی،تو اسے کہا گیا: کیا تو منافق ہو گیا ہے اے فلاں؟ اس نے کہا: میں منافق نہیں ہوا ہوں۔چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں،پھر واپس جا کر ہماری امامت کراتے ہیں،اے اللہ کے رسول! اور ہم آب پاشی کی اونٹنیوں والے ہیں،اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں،(گزشتہ رات) وہ آئے اور ہماری امامت کرائی اور سورۃ البقرہ پڑھنے لگے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟ کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟ وہ پڑھو اور وہ پڑھو۔‘‘ ابوزبیر نے نام لے کر کہا کہ (( سبح اسم ربک الأعلی )) اور (( واللیل إذا یغشی )) پڑھو اور ہم نے عمرو سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے سورتوں کے نام ذکر کیے تھے۔