Sunan Abi Dawood Hadith 808 (سنن أبي داود)
[808]إسنادہ حسن
أخرجہ النسائي (141 وسندہ حسن) وقول ابن عباس ھذا منسوخ لأنہ ثبت أنہ قال: ’’إقرأ خلف الإمام بفاتحۃ الکتاب‘‘ رواہ ابن المنذر فی الأوسط (3/109 وسندہ صحیح)، قلت: وإذا المأموم مأمور بالقرأۃ فکیف الإمام؟
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ مُوسَی بْنِ سَالِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي ہَاشِمٍ فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ أَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَقْرَأُ فِي الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فَقَالَ لَا لَا فَقِيلَ لَہُ فَلَعَلَّہُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِہِ فَقَالَ خَمْشًا ہَذِہِ شَرٌّ مِنْ الْأُولَی كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِہِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَی الْفَرَسِ
جناب عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں بنی ہاشم کے چند جوانوں کی معیت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں گیا۔ہم نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔انہیں کہا گیا۔شاید آپ ﷺ اپنے دل میں پڑھتے تھے۔کہا: تیرا بھلا ہو! یہ صورت پہلی سے بھی بدتر ہے۔آپ ﷺ (اللہ کے) مامور بندے تھے۔آپ ﷺ کو جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا آپ ﷺ نے اسے پہنچا دیا۔آپ ﷺ نے ہمیں لوگوں سے الگ کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا۔سوائے تین باتوں کے۔یہ کہ وضو کامل کریں،صدقہ نہ کھائیں اور گدھے کو گھوڑی سے جفتی نہ کرائیں