Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 823 (سنن أبي داود)

[823]إسنادہ حسن

محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (5/322) مشکوۃ المصابیح (854)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كُنَّا خَلْفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَثَقُلَتْ عَلَيْہِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ قُلْنَا نَعَمْ ہَذًّا يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّہُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِہَا

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے۔آپ ﷺ نے قرآت شروع فرمائی مگر وہ آپ ﷺ پر بھاری ہو گئی۔(یعنی آپ اس میں رواں نہ رہ سکے) جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو کہا ’’شاید کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟‘‘ ہم نے کہا: ہاں،اے اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہ پڑھا کرو مگر فاتحہ،کیونکہ جو اسے (فاتحہ کو) نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔‘‘