Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 824 (سنن أبي داود)

[824]إسنادہ صحیح

نافع بن محمود بن الربیع / ربیعۃ (المقدسی): وثقہ الدار قطنی والحاکم وابن حزم فی المحلی وابن حبان فی الثقات والبیہقی فی القراءۃ خلف الامام والذھبی فی الکاشف واخطا من جھلہ، ومکحول: بری من التدلیس مشکوۃ المصابیح (854)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْہَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ نَافِعٌ أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ فَصَلَّی أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَہُ حَتَّی صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْہَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْہَرُ قَالَ أَجَلْ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْہَرُ فِيہَا بِالْقِرَاءَةِ قَالَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْہِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْہِہِ وَقَالَ ہَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَہَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ بَعْضُنَا إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ فَلَا وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنْ الْقُرْآنِ إِذَا جَہَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ

جناب نافع بن محمود بن ربیع انصاری نے بیان کیا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں تاخیر سے آئے تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہی اور نماز پڑھانا شروع کر دی۔عبادہ رضی اللہ عنہ آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا ہم نے ابونعیم کے پیچھے صف بنائی۔ابونعیم جہری قرآت کر رہے تھے اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ فاتحہ پڑھنی شروع کر دی۔جب وہ فارغ ہوئے،تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ سورۃ فاتحہ پڑھ رہے تھے حالانکہ (امام) ابونعیم جہری قرآت کر رہے تھے۔(سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے) کہا ہاں۔رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں آپ ﷺ نے جہری قرآت کی،مگر آپ ﷺ قرآت میں الجھ گئے۔جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو ہماری طرف چہرہ کیا اور فرمایا ’’کیا تم لوگ قرآت کرتے ہو،جب میں اونچی آواز سے قرآت کر رہا ہوتا ہوں؟‘‘ ہم میں سے بعض نے کہا: ہم ایسا کرتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمای’’نہ کیا کرو۔میں کہہ رہا تھا مجھے کیا ہوا ہے کہ قرآن پڑھنے میں الجھن ہو رہی ہے۔جب میں جہر سے پڑھ رہا ہوں تو قرآن سے کچھ نہ پڑھو،مگر ام القرآن (سورۃ فاتحہ)۔