Sunan Abi Dawood Hadith 827 (سنن أبي داود)
[827]صحیح
انظر الحدیث السابق (826)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَہَرَ فِيہَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ ہَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْتَہَی النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِيمَا جَہَرَ فِيہِ النَّبِيُّ ﷺ بِالْقِرَاءَةِ مِنْ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ ہَذَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَلَی مَعْنَی مَالِكٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِيِّ وَابْنِ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّہْرِيِّ سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّہَا الصُّبْحُ بِمَعْنَاہُ إِلَی قَوْلِہِ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِہِ قَالَ مَعْمَرٌ فَانْتَہَی النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَہَرَ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ و قَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِي حَدِيثِہِ قَالَ مَعْمَرٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ فَانْتَہَی النَّاسُ و قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِيُّ مِنْ بَيْنِہِمْ قَالَ سُفْيَانُ وَتَكَلَّمَ الزُّہْرِيُّ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَسْمَعْہَا فَقَالَ مَعْمَرٌ إِنَّہُ قَالَ فَانْتَہَی النَّاسُ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّہْرِيِّ وَانْتَہَی حَدِيثُہُ إِلَی قَوْلِہِ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ وَرَوَاہُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ فِيہِ قَالَ الزُّہْرِيُّ فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَہُ فِيمَا جَہَرَ بِہِ ﷺ قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ قَالَ قَوْلُہُ فَانْتَہَی النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الزُّہْرِيِّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی،خیال ہے کہ یہ صبح کی نماز تھی،اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی ((مالی أنازع القرآن)) ’’مجھے کیا ہوا کہ قرآت قرآن میں الجھ رہا ہوں۔‘‘ تک بیان کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: مسدد نے اپنی حدیث میں کہا کہ معمر نے بیان کیا: پس لوگ ان نمازوں میں قرآت سے رک گئے جن میں رسول اللہ ﷺ جہری قرآت کرتے تھے۔اور ابن سرح نے اپنی روایت میں کہا: معمر نے بواسطہ زہری بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پس لوگ رک گئے۔اور ان میں سے عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی کلمہ کہا جو میں نہ سن سکا،تو معمر نے بتایا کہ انہوں نے کہا ہے پس لوگ رک گئے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے جو کہ ((مالی أنازع القرآن)) کے الفاظ تک ہے۔اور اوزاعی نے اسے زہری سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ زہری نے کہا: پس مسلمان اس پر متنبہ ہو گئے تو جب آپ ﷺ جہری قرآت کرتے تو وہ آپ کے ساتھ قرآت نہ کیا کرتے تھے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا کہ ((فانتہی الناس)) یعنی لوگ رک گئے۔زہری کا کلام ہے۔