Sunan Abi Dawood Hadith 836 (سنن أبي داود)
[836]صحیح
صحیح بخاری (803)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أُبَيٌّ وَبَقِيَّةُ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا ہُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِہَا يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ثُمَّ يَقُولُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ثُمَّ يَقُولُ اللہُ أَكْبَرُ حِينَ يَہْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَہُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَہُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنْ الْجُلُوسِ فِي اثْنَتَيْنِ فَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْ الصَّلَاةِ ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَہًا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِنْ كَانَتْ ہَذِہِ لَصَلَاتُہُ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْيَا قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ يَجْعَلُہُ مَالِكٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَغَيْرِہِمَا عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَوَافَقَ عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّہْرِيِّ
جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ سے مروی ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر فرض اور غیر فرض نماز میں تکبیریں کہا کرتے تھے۔جب کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے،پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے۔پھر (رکوع سے اٹھتے تو) ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہتے اس کے بعد ((ربنا ولک الحمد)) کہتے پھر سجدے کو جاتے ہوئے ((اللہ اکبر)) کہتے پھر سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے پھر (دوسرا) سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے،پھر سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے،پھر دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ کر اٹھتے تو تکبیر کہتے اور ہر رکعت میں ایسے ہی کرتے حتیٰ کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔پھر جب نماز سے پھرتے تو کہتے: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نماز کے معاملے میں،میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ سے مشابہ ہوں۔آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی یہی نماز تھی،حتیٰ کہ آپ ﷺ اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مالک اور زبیدی وغیرہ نے ان آخری جملوں کو بواسطہ زہری جناب علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے۔جبکہ عبدالاعلیٰ نے بواسطہ معمر شعیب بن ابی حمزہ کی موافقت کی ہے۔(جیسے کہ مؤلف نے ذکر کیا ہے۔)