Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 847 (سنن أبي داود)

[847]صحیح

صحیح مسلم (477)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ح و حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ يُوسُفَ كُلُّہُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ اللہُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ قَالَ مُؤَمَّلٌ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَہْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ زَادَ مَحْمُودٌ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ثُمَّ اتَّفَقُوا وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ وَقَالَ بِشْرٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ لَمْ يَقُلْ اللہُمَّ لَمْ يَقُلْ مَحْمُودٌ اللہُمَّ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہہ لیتے تو کہتے: ((اللہم ربنا لک الحمد ملء السماء)) اور مومل کے الفاظ ((ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شیء بعد أہل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وکلنا لک عبد لا مانع لما أعطیت))‘‘ اے اللہ! اے ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے۔جس سے کہ آسمان بھر جائیں زمین بھر جائے اور ان کے علاوہ جو تو چاہے بھر جائے۔اے وہ ذات جو تعریف و بزرگی کے اہل ہے! سب سے حق بات جو بندے کو کہنی لائق ہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں،یہی ہے کہ جو تو عنایت فرما دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور محمود نے زیادہ کیا ((ولا معطی لما منعت)) اور جو تو روک لے کوئی دے نہیں سکتا پھر ((ولا ینفع ذا الجد منک الجد)) اور تیرے مقابلے میں کسی کی بڑائی اور بزرگی فائدہ نہیں دے سکتی یہ سب کا اتفاق ہے۔بشر نے ((اللہم)) کے بغیر ((ربنا لک الحمد)) (باضافہ واو) روایت کیا ہے۔ولید بن مسلم نے سعید سے روایت کیا تو کہا: ((اللہم ربنا لک الحمد)) اور ((ولا معطی لما منعت)) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ان کو صرف ابومسہر ہی نے بیان کیا ہے