Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 857 (سنن أبي داود)

[857]صحیح

انظر الحدیث الآتي (858)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَلَّادٍ،عَنْ عَمِّہِ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ... فَذَكَرَ نَحْوَہُ،قَالَ فِيہِ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّہُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتَّی يَتَوَضَّأَ،فَيَضَعَ الْوُضُوءَ-يَعْنِي: مَوَاضِعَہُ-ثُمَّ يُكَبِّرُ،وَيَحْمَدُ اللہَ جَلَّ وَعَزَّ،وَيُثْنِي عَلَيْہِ،وَيَقْرَأُ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ،ثُمَّ يَقُولُ: اللہُ أَكْبَرُ،ثُمَّ يَرْكَعُ،حَتَّی تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُہُ،ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،حَتَّی يَسْتَوِيَ قَائِمًا،ثُمَّ يَقُولُ: اللہُ أَكْبَرُ،ثُمَّ يَسْجُدُ حَتَّی تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُہُ،ثُمَّ يَقُولُ: اللہُ أَكْبَرُ،وَيَرْفَعُ رَأْسَہُ حَتَّی يَسْتَوِيَ قَاعِدًا،ثُمَّ يَقُولُ: اللہُ أَكْبَرُ،ثُمَّ يَسْجُدُ حَتَّی تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُہُ،ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَہُ فَيُكَبِّرُ،فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُہُ.

علی بن یحییٰ بن خلاد (یحییٰ کے) چچا (رفاعہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا،اور مذکورہ بالاحدیث کے مثل ذکر کیا۔اس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’کسی شخص کی نماز اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے اور اعضائے وضو کو ٹھیک ٹھیک نہ دھو لے۔پھر تکبیر کہے اور اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کرے اور کچھ قرآن پڑھے جو اسے آسان لگے۔پھر ((اللہ اکبر)) کہے اور رکوع کرے،حتیٰ کہ اس کے جوڑ اطمینان سے ٹک جائیں پھر کہے ((سمع اللہ لمن حمدہ)) اطمینان سے سیدھا کھڑا ہو جائے،پھر کہے ((اللہ اکبر)) اور سجدہ کرے،حتیٰ کہ اس کے جوڑ اطمینان سے ٹک جائیں۔پھر ((اللہ اکبر)) کہے اور اپنا سر اٹھائے اور ٹھیک طرح سے بیٹھ جائے۔پھر ((اللہ اکبر)) کہے اور سجدہ کرے،حتیٰ کہ اس کے جوڑ اطمینان سے ٹک جائیں۔پھر اپنا سر اٹھائے اور تکبیر کہے۔جب اس طرح کرے گا تو اس کی نماز کامل ہو گی۔‘‘