Sunan Abi Dawood Hadith 858 (سنن أبي داود)
[858]إسنادہ صحیح
أخرجہ النسائي (1137 وسندہ صحیح) وابن ماجہ (460 وسندہ صحیح)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ،قَالَا: حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ،حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَلَّادٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَمِّہِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ... بِمَعْنَاہُ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّہَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّی يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَہُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ،فَيَغْسِلَ وَجْہَہُ،وَيَدَيْہِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ،وَيَمْسَحَ بِرَأْسِہِ،وَرِجْلَيْہِ إِلَی الْكَعْبَيْنِ،ثُمَّ يُكَبِّرَ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَہُ،ثُمَّ يَقْرَأَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ لَہُ فِيہِ وَتَيَسَّرَ،فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ: ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ،فَيُمَكِّنَ وَجْہَہُ-قَالَ ہَمَّامٌ وَرُبَّمَا قَالَ جَبْہَتَہُ-مِنَ الْأَرْضِ حَتَّی تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُہُ وَتَسْتَرْخِيَ،ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَی مَقْعَدِہِ،وَيُقِيمَ صُلْبَہُ, فَوَصَفَ الصَّلَاةَ ہَكَذَا،أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ،حَتَّی تَفْرُغَ،لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ،حَتَّی يَفْعَلَ ذَلِكَ.
جناب علی بن یحییٰ بن خلاد نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے چچا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا،اس میں ہے کہ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کسی کی نماز اس وقت تک کامل ہو سکتی جب تک کہ وضو کامل نہ کرے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے۔پس اپنا چہرہ دھوئے،کہنیوں تک دونوں ہاتھ دھوئے،سر کا مسح کرے اور ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھوئے۔پھر ((اللہ اکبر)) کہے (اور نماز شروع کرے) اور اللہ عزوجل کی حمد و ثناء کرے۔پھر قرآن سے قرآت کرے جیسے کہ اسے حکم دیا گیا ہے اور جو آسان لگے۔‘‘ پھر حماد کی حدیث کی مانند روایت کیا۔اور کہا ’’پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے اور اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے۔‘‘ ہمام نے اس مقام پر بعض اوقات ((جبہتہ من الأرض)) کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی اپنی پیشانی زمین پر ٹکائے حتیٰ کہ اس کے جوڑ اطمینان اور سکون سے ٹک جائیں۔پھر تکبیر کہے اور درست ہو کر سیرین پر بیٹھ جائے اور کمر کو سیدھی رکھے۔‘‘ الغرض! اسی انداز میں نماز کا طریقہ بیان فرمایا حتیٰ کہ چاروں رکعات سے فارغ ہو جائے۔‘‘ کسی شخص کی نماز کامل نہیں ہو سکتی،حتیٰ کہ ایسے ہی کرے۔‘‘