Sunan Abi Dawood Hadith 863 (سنن أبي داود)
[863]حسن
أخرجہ النسائي (1037 وسندہ حسن) عطاء بن السائب حدث قبل اختلاطہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ قَالَ أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَہُ حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِي الْمَسْجِدِ فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْہِ عَلَی رُكْبَتَيْہِ وَجَعَلَ أَصَابِعَہُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَی بَيْنَ مِرْفَقَيْہِ حَتَّی اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقَامَ حَتَّی اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْہُ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَوَضَعَ كَفَّيْہِ عَلَی الْأَرْضِ ثُمَّ جَافَی بَيْنَ مِرْفَقَيْہِ حَتَّی اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْہُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَجَلَسَ حَتَّی اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْہُ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا ثُمَّ صَلَّی أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِثْلَ ہَذِہِ الرَّكْعَةِ فَصَلَّی صَلَاتَہُ ثُمَّ قَالَ ہَكَذَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللہِ ﷺ يُصَلِّي
جناب سالم براد بیان کرتے ہیں کہ سے) دور رکھا،حتیٰ کہ ہر ہر جوڑ اپنی جگہ پر ٹک گیا۔پھر ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہا اور کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر ٹک گیا۔پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا اور ہاتھوں کو زمین پر رکھا۔پھر کہنیوں کو پہلوؤں سے دور کیا،حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ پر ٹک گیا پھر (سجدے سے) اپنا سر اٹھایا اور بیٹھے،حتیٰ کہ ہر ہر عضو اپنی جگہ پر ٹک گیا۔پھر (دوسرے سجدے میں) بھی ایسے ہی کیا،پھر اسی طرح چار رکعتیں پڑھیں اور اپنی نماز پوری کی،پھر فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔