Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 874 (سنن أبي داود)

[874]صحیح

أخرجہ النسائي (1070 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (1200)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَی الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللہِ ﷺ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَكَانَ يَقُولُ اللہُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُہُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِہِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِہِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُہُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِہِ يَقُولُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُہُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِہِ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِہِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ السُّجُودِ وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِہِ وَكَانَ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي فَصَلَّی أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقَرَأَ فِيہِنَّ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ أَوْ الْأَنْعَامَ شَكَّ شُعْبَةُ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔آپ کہتے تھے ((اللہ اکبر)) تین بار ((ذو الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ)) ’’اللہ سب سے بڑا ہے،کامل ملکیت والا،غلبے والا،بڑائی اور عظمت والا۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ثنا پڑھی۔پھر سورۃ البقرہ کی قرآت کی۔پھر رکوع کیا اور آپ ﷺ کا رکوع آپ ﷺ کے قیام جیسا تھا،آپ ﷺ رکوع میں یہ دعا پڑھتے تھے ((سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم)) پھر رکوع سے سر اٹھایا۔آپ ﷺ کا یہ قیام پہلے کی مانند (لمبا) تھا۔آپ ﷺ یہاں پڑھتے تھے ((لربی الحمد)) ’’میرے رب کی حمد ہے۔‘‘ پھر سجدہ کیا تو آپ ﷺ کا سجدہ بھی آپ ﷺ کے قیام کی مانند تھا۔اور آپ ﷺ سجدے میں کہتے تھے ((سبحان ربی الأعلی)) ’’پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند و بالا ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا،اور سجدوں کے درمیان بیٹھے،اتنی دیر جتنی کہ سجدے میں لگائی اور اس دوران میں کہتے تھے ((رب اغفر لی رب اغفر لی)) چنانچہ آپ ﷺ نے چار رکعتیں پڑھیں اور ان میں سورۃ البقرہ،آل عمران،نساء اور مائدہ یا انعام کی تلاوت کی۔شعبہ کو شک ہوا ہے۔