Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 879 (سنن أبي داود)

[879]صحیح

صحیح مسلم (486)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ہُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاہُ مَنْصُوبَتَانِ وَہُوَ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِكَ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو (ان کے بستر سے) گم پایا تو میں نے انہیں ان کے مصلے پر ٹٹولا تو پایا کہ آپ ﷺ سجدے میں تھے۔آپ ﷺ کے پاؤں کھڑے تھے اور آپ ﷺ یہ کلمات پڑھ رہے تھے ((أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصی ثناء علیک أنت کما أثنیت علی نفسک)) ’’(اے اللہ!) میں تیری ناراضی سے،تیری رضا مندی کی اور تیری پکڑ سے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں۔میں تجھ سے (ڈر کر) تیری ہی پناہ میں آتا ہوں۔میں تیری تعریفات شمار نہیں کر سکتا۔تو ویسا ہی ہے جیسے کہ تو نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے۔‘‘