Sunan Abi Dawood Hadith 880 (سنن أبي داود)
[880]صحیح
صحیح بخاری (832) صحیح مسلم (589)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَدْعُو فِي صَلَاتِہِ اللہُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اللہُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنْ الْمَغْرَمِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے ((اللہم إنی أعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال وأعوذ بک من فتنۃ المحیا والممات اللہم إنی أعوذ بک من المأثم والمغرم)) ’’اے اللہ! میں عذاب قبر سے،تیری پناہ چاہتا ہوں،مجھے مسیح دجال کے فتنہ سے محفوظ رکھ،مجھے زندگی اور موت کے فتنوں سے محفوظ فرما۔اے اللہ! مجھے گناہ کے کاموں اور قرضے سے بچائے رکھ۔‘‘ کسی نے کہا کہ آپ ﷺ قرضے سے بہت پناہ مانگتے ہیں؟ (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا ’’بندہ جب قرضہ لے لیتا ہے،تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا۔‘‘