Sunan Abi Dawood Hadith 882 (سنن أبي داود)
[882]صحیح
أخرجہ النسائي (1217 وسندہ صحیح) ورواہ البخاري (6010 نحوہ) وانظر الحدیث السابق (380)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَہُ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ اللہُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو گئے تو ایک بدوی نے نماز میں یوں کیا ((اللہم ارحمنی ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا)) ’’اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اور محمد ﷺ پر،اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ فرما۔‘‘ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو اس بدوی سے کہا ’’تو نے وسیع چیز کو تنگ کر دیا۔‘‘ آپ ﷺ کا اشارہ،اللہ عزوجل کی رحمت کی طرف تھا۔