Sunan Abi Dawood Hadith 887 (سنن أبي داود)
[887] إسنادہ ضعیف
ترمذی (3347)
الأ عرابي مجہول وقال ابن حجر فی التقریب (8504): ’’لا یعرف‘‘ وللحدیث طرق کلھا ضعیفۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَانْتَہَی إِلَی آخِرِہَا أَلَيْسَ اللہُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ فَلْيَقُلْ بَلَی وَأَنَا عَلَی ذَلِكَ مِنْ الشَّاہِدِينَ وَمَنْ قَرَأَ لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَانْتَہَی إِلَی أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَی فَلْيَقُلْ بَلَی وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَہُ يُؤْمِنُونَ فَلْيَقُلْ آمَنَّا بِاللہِ قَالَ إِسْمَعِيلُ ذَہَبْتُ أُعِيدُ عَلَی الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّہُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْہُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْہَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْہِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو تم میں سورۃ ((والتین والزیتون)) پڑھے اور اس کے آخر میں ((ألیس اللہ بأحکم الحاکمین)) ’’کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ پر پہنچے تو کہے ((بلی وأنا علی ذلک من الشاہدین)) کیوں نہیں! اور میں اس کی گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔‘‘ اور جو سورۃ القیامہ پڑھے اور اس کے آخر میں ((ألیس ذلک بقادر علی أن یحیی الموتی)) ’’کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر سکے؟‘‘ تو چاہیے کہ کہے ((بلی)) ’’کیوں نہیں،وہ قادر ہے۔‘‘ اور جو شخص سورۃ المرسلات پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے ((فبأی حدیث بعدہ یؤمنون)) ’’یہ لوگ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟‘‘ تو چاہیے کہ کہے ((آمنا باللہ)) ’’ہم اللہ پر ایمان لائے۔‘‘ اسمعیل کہتے ہیں کہ میں اس اعرابی کے پاس دوبارہ گیا تاکہ اس سے یہ حدیث دوبارہ سنوں اور دیکھوں کہیں وہ (بھولا تو نہیں) تو اس نے کہا: اے بھتیجے! تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے اس حدیث کو یاد نہیں رکھا ہو گا؟ حالانکہ میں نے ساٹھ حج کیے ہیں اور ہر حج میں،میں جس اونٹ پر سوار ہوتا رہا ہوں وہ سب مجھے یاد ہیں۔