Sunan Abi Dawood Hadith 907 (سنن أبي داود)
[907]إسنادہ حسن
حدیث أول: فیہ یحیی بن کثیر الکاھلي وثقہ ابن حبان والجمھور وحدیثہ لا ینزل عن درجۃ الحسن، وحدیث الثاني: أعلہ الإمام أبو حاتم في علل الحدیث (1/77، 78) بعلۃ غیر قادحۃ واللہ أعلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَی الْكَاہِلِيِّ عَنْ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ الْمَالِكِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ يَحْيَی وَرُبَّمَا قَالَ شَہِدْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ہَلَّا أَذْكَرْتَنِيہَا قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِہِ قَالَ كُنْتُ أُرَاہَا نُسِخَتْ و قَالَ سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ كَثِيرٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُسَوَّرُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ الْمَالِكِيُّ
سیدنا مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا،آپ ﷺ نے نماز میں قرآت فرمائی اور اس میں سے کچھ آیات چھوٹ گئیں جنہیں آپ ﷺ نے تلاوت نہیں فرمایا تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیت چھوڑ دی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو تو نے مجھے یاد کیوں نہ کرا دیں؟‘‘ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ اس آدمی نے کہا: میں سمجھا شاید یہ منسوخ ہو گئی ہیں۔سلیمان نے اس سند کو یوں بیان کیا ((حدثنا یحیی بن کثیر الأسدی، قال حدثنا المسور بن یزید الأسدی المالکی)) (یعنی تصریح تحدیث اور وضاحت نسب کے ساتھ)۔سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک نماز پڑھی اور اس میں قرآت کی،تو کچھ خلط ہو گیا۔جب فارغ ہوئے تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: جی ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو تمہیں کس چیز نے روکا تھا (کہ مجھے بتا دیتے)۔‘‘