Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 920 (سنن أبي داود)

[920] إسنادہ ضعیف

ابن إسحاق مدلس وعنعن

والحدیث السابق (الأصل: 918) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 45، 46

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی،حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ،عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ-صَاحِبِ رَسُولِ اللہِ ﷺ-،قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللہِ ﷺ لِلصَّلَاةِ فِي الظُّہْرِ أَوِ الْعَصْرِ-وَقَدْ دَعَاہُ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ-إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ-بِنْتُ ابْنَتِہِ-عَلَی عُنُقِہِ،فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي مُصَلَّاہُ،وَقُمْنَا خَلْفَہُ،وَہِيَ فِي مَكَانِہَا الَّذِي ہِيَ فِيہِ،قَالَ: فَكَبَّرَ،فَكَبَّرْنَا،قَالَ: حَتَّی إِذَا أَرَادَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَہَا فَوَضَعَہَا،ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ،حَتَّی إِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِہِ،ثُمَّ قَامَ أَخَذَہَا, فَرَدَّہَا فِي مَكَانِہَا/ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَصْنَعُ بِہَا ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ،حَتَّی فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ ﷺ.

سیدنا ابوقتادہ صحابی رسول ﷺ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ ایک بار ہم نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے،نماز ظہر کی تھی یا عصر کی۔اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو نماز کے لیے بلایا۔جب آپ ﷺ تشریف لائے تو امامہ بنت ابی العاص یعنی آپ ﷺ کی صاحبزادی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا) کی بیٹی آپ ﷺ کی گردن پر تھی۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ اپنے مصلے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے جب کہ وہ بچی اپنی اسی جگہ پر تھی (یعنی آپ ﷺ کی گردن پر)۔آپ ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔حتیٰ کہ جب رسول اللہ ﷺ نے رکوع کرنا چاہا تو اسے پکڑ کر بٹھا دیا،پھر رکوع کیا اور سجدہ کیا۔جب آپ ﷺ اپنے سجدے سے فارغ ہوئے اور کھڑے ہوئے تو اسے پھر گردن (کندھے) پر بٹھا لیا۔رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں ایسے ہی کرتے رہے،حتیٰ کہ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے۔