Sunan Abi Dawood Hadith 924 (سنن أبي داود)
[924]إسنادہ حسن
أخرجہ النسائي (1222 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (989)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا أَبَانُ،حَدَّثَنَا عَاصِمٌ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا،فَقَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ يُصَلِّي،فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ،فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ،فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ،فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللہِ ﷺ الصَّلَاةَ, قَال:َ إِنَّ اللہَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا يَشَاءُ،وَإِنَّ اللہَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِہِ, أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ،فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کہا کرتے تھے اور اپنی ضرورت کی بات بھی لوگوں سے کر لیتے تھے،پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا،جب کہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا،لیکن آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔اس سے مجھے بہت غم لاحق ہوا اور اگلے پچھلے اندیشوں نے آ لیا۔پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا ’’اللہ عزوجل اپنے احکام میں جو چاہتا ہے تبدیلی کرتا ہے۔اس نے اب یہ حکم دیا ہے کہ نماز کے دوران میں بات چیت نہ کیا کرو۔‘‘ تب آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب دیا۔