Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 926 (سنن أبي داود)

[926]صحیح

صحیح مسلم (540)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ،عَنْ جَابِرٍ،قَالَ: أَرْسَلَنِي نَبِيُّ اللہِ ﷺ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلَقِ،فَأَتَيْتُہُ وَہُوَ يُصَلِّي عَلَی بَعِيرِہِ،فَكَلَّمْتُہُ،فَقَالَ لِي بِيَدِہِ, ہَكَذَا،ثُمَّ كَلَّمْتُہُ فَقَالَ لِي بِيَدِہِ, ہَكَذَا،وَأَنَا أَسْمَعُہُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِہِ،فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ؟ فَإِنَّہُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے قبیلہ بنی مصطلق کی طرف بھیجا۔میں آیا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے۔میں نے آپ ﷺ سے بات کرنا چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔میں نے پھر بات کی تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔میں آپ کو سن رہا تھا کہ آپ ﷺ قرآت کر رہے تھے اور (رکوع سجود کے لیے) اپنے سر سے اشارہ کر رہے تھے۔جب فارغ ہوئے تو فرمایا ’’جس کام کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا اس کا تم نے کیا کیا؟ اور تم سے بات نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔‘‘