Sunan Abi Dawood Hadith 927 (سنن أبي داود)
[927]صحیح
أخرجہ الترمذي (368 وسندہ حسن) وصححہ بن الجارود (215 وسندہ حسن) وانظر الحدیث السابق (925)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی الْخُرَاسَانِيُّ الدَّامِغَانِيُّ،حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ،حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ،حَدَّثَنَا نَافِعٌ،قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ،يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی قُبَاءَ يُصَلِّي فِيہِ قَالَ: فَجَاءَتْہُ الْأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْہِ وَہُوَ يُصَلِّي،قَالَ: فَقُلْتُ: لِبِلَالٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَرُدُّ عَلَيْہِمْ،حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْہِ وَہُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ: يَقُولُ, ہَكَذَا. وَبَسَطَ كَفَّہُ،وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّہُ وَجَعَلَ بَطْنَہُ أَسْفَلَ،وَجَعَلَ ظَہْرَہُ إِلَی فَوْقٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مسجد) قباء میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے۔(اس اثنا میں آپ ﷺ کے پاس) انصار آ گئے۔وہ آپ کو سلام کہتے تھے جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا،جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور وہ لوگ آپ کو سلام کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: اس طرح اور اپنی ہتھیلی پھیلائی۔(حسین بن عیسیٰ نے اپنے شیخ جعفر بن عون سے اس کی وضاحت یوں نقل کی ہے کہ) جعفر بن عون نے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو نیچے کیا اور اس کی پشت کو اوپر کی طرف۔