Sunan Abi Dawood Hadith 928 (سنن أبي داود)
[928] إسنادہ ضعیف
الثوري عنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ،عَنْ سُفْيَانَ،عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ،عَنْ أَبِي حَازِمٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ . قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي:-فِيمَا أَرَی-: أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَلَا يُسَلَّمَ عَلَيْكَ،وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلَاتِہِ فَيَنْصَرِفُ, وَہُوَ فِيہَا شَاكٌّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نماز اور سلام میں نقص نہیں۔‘‘ (یعنی کمی نہ رکھو)۔امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ آپ سلام کریں،نہ آپ پر سلام کیا جائے۔اور نماز میں انسان کا کمی کرنا یوں ہے کہ انسان نماز سے فارغ ہو جائے حالانکہ اسے اس میں شک ہو۔