Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 931 (سنن أبي داود)

[931]إسنادہ حسن

أخرجہ البخاري في جزء القراء ۃ (68 وسندہ حسن) فلیح بن سلیمان وثقہ الجمھور مشکوۃ المصابیح (990)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو،حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ،قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ, عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الْإِسْلَامِ،فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قَالَ لِي: إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللہَ،وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللہَ, فَقُلْ: يَرْحَمُكَ اللہُ،قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي الصَّلَاةِ،إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللہَ،فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللہُ-رَافِعًا بِہَا صَوْتِي-،فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِہِمْ،حَتَّی احْتَمَلَنِي ذَلِكَ فَقُلْتُ: مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شُزْرٍ؟! قَالَ: فَسَبَّحُوا،فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللہِ ﷺ, قَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ؟،قِيلَ: ہَذَا الْأَعْرَابِيُّ،فَدَعَانِي رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَقَالَ لِي: إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَذِكْرِ اللہِ جَلَّ وَعَزَّ،فَإِذَا كُنْتَ فِيہَا, فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنُكَ . فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ.

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام کے کچھ احکام جان لیے۔ان میں سے ایک یہ بھی جانا کہ مجھے کہا گیا: جب تمہیں چھینک آئے تو ((الحمد اللہ)) کہو اور جب کوئی دوسرا چھینک مارے اور ((الحمد اللہ)) کہے،تو تم اسے ((یرحمک اللہ)) سے جواب دو۔چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں کھڑا تھا کہ ایک شخص نے چھینک ماری اور اس نے ((الحمد اللہ)) کہا،میں نے کہا: ((یرحمک اللہ)) اور اونچی آواز سے کہا،تو لوگوں نے مجھے تیز نظروں سے دیکھا۔اس سے مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے کہ مجھے گھور گھور کے دیکھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے ((سبحان اللہ)) کہا۔پھر جب نبی کریم ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا ’’باتیں کون کر رہا تھا؟‘‘ کہا گیا کہ یہ بدوی۔تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا ’’نماز میں قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے اور اللہ کا ذکر،تو جب تم نماز میں ہوا کرو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہیئے۔‘‘ الغرض میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شفیق معلم نہیں دیکھا۔