Sunan Abi Dawood Hadith 940 (سنن أبي داود)
[940]صحیح
صحیح بخاری (684) صحیح مسلم (421)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ،عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ ذَہَبَ إِلَی بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَہُمْ،وَحَانَتِ الصَّلَاةُ،فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللہُ عَنْہُ،فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ،فَصَلَّی أَبُو بَكْرٍ،فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ،فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِي الصَّفِّ،فَصَفَّقَ النَّاسُ،وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ،فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ،فَرَأَی رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَأَشَارَ إِلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ, أَنِ: امْكُثْ مَكَانَكَ،فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْہِ،فَحَمِدَ اللہَ عَلَی مَا أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ ذَلِكَ،ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ،حَتَّی اسْتَوَی فِي الصَّفِّ،وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَلَمَّا انْصَرَفَ, قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟،قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللہِ ﷺ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ؟! مَنْ نَابَہُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِہِ فَلْيُسَبِّحْ, فَإِنَّہُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْہِ،وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ. قَالَ أَبو دَاود: وَہَذَا فِي الْفَرِيضَةِ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنی عمرو بن عوف (قباء) میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔نماز کا وقت ہو گیا،تو مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نماز پڑھائیں گے،تو میں اقامت کہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی اور ادھر رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور چلتے آئے،حتیٰ کہ صف میں کھڑے ہو گئے،لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھتے تھے (متوجہ نہ ہوتے تھے) لیکن جب لوگوں نے بہت زیادہ تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا۔رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے۔اور رسول اللہ ﷺ نے جو انہیں حکم دیا تھا اس پر اللہ کی حمد کی اور پھر پیچھے ہٹ آئے،حتیٰ کہ صف میں برابر ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے اور نماز پڑھائی۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’اے ابوبکر! تمہیں کیا مانع تھا کہ تم رکے رہتے جب میں نے تمہیں کہہ دیا تھا؟‘‘ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ابن ابی قحافہ کو زیب نہ دیتا تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے آگے ہو کر نماز پڑھائے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم لوگوں کو کیا ہوا تھا کہ اس قدر تالیاں بجانے لگے تھے؟ جسے نماز میں کوئی عارض ہو وہ ((سبحان اللہ)) کہا کرے۔جب وہ ((سبحان اللہ)) کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی۔تالیاں تو عورتوں کے لیے ہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ فرض نماز میں ہے۔