Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 941 (سنن أبي داود)

[941]صحیح

صحیح بخاری (7190)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ،أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَبِي حَازِمٍ،عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ،قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ،فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ،فَأَتَاہُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَہُمْ بَعْدَ الظُّہْرِ،فَقَالَ لِبِلَالٍ: إِنْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ،وَلَمْ آتِكَ, فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ،فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَذَّنَ بِلَالٌ،ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ... قَالَ فِي آخِرِہِ: إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ, فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ،وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں کوئی جھگڑا ہو گیا تھا۔نبی کریم ﷺ کو خبر پہنچی تو آپ ظہر کے بعد ان میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے اور بلال سے فرما گئے ’’اگر نماز عصر کا وقت ہو جائے اور میں نہ پہنچ سکوں تو ابوبکر سے کہنا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔‘‘ چنانچہ جب عصر کا وقت ہوا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی،پھر اقامت کہی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کو کہا،وہ آگے بڑھ گئے۔اس روایت کے آخر میں ہے ’’جب تمہیں نماز میں کوئی عارض پیش آ جائے تو مرد ((سبحان اللہ)) کہا کریں اور عورتیں تالی بجائیں۔‘‘