Sunan Abi Dawood Hadith 948 (سنن أبي داود)
[948]حسن✷
أخرجہ البیھقي (2/288 وسندہ حسن) وصححہ الحاکم (1/264، 265 وسندہ حسن) ووافقہ الذہبي
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَابِصِيُّ،حَدَّثَنَا أَبِي،عَنْ شَيْبَانَ،عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ،قَالَ: قَدِمْتُ الرَّقَّةَ،فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: ہَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيمَةٌ،فَدَفَعْنَا إِلَی وَابِصَةَ،قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ فَنَنْظُرُ إِلَی دَلِّہِ،فَإِذَا عَلَيْہِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ،وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ،وَإِذَا ہُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَی عَصًا فِي صَلَاتِہِ،فَقُلْنَا-بَعْدَ أَنْ سَلَّمْنَا-فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ لَمَّا أَسَنَّ،وَحَمَلَ اللَّحْمَ, اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاہُ يَعْتَمِدُ عَلَيْہِ.
جناب ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ میں (شام کے علاقہ) رقہ میں آیا تو میرے دوستوں نے مجھے کہا: کیا تم کسی صحابی رسول سے ملنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: (کیوں نہیں) یہ تو غنیمت ہے۔چنانچہ ہم سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے۔میں نے اپنے ساتھی سے کہا: پہلے تو ہم ان کی ظاہری وضع قطع دیکھتے ہیں۔تو ہم نے دیکھا کہ آپ کے سر پر ٹوپی ہے سر سے چپکی ہوئی اور کانوں والی،اور خز (ریشم) کا جبہ تھا مٹیالے رنگ کا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے تھے۔سلام کے بعد ہم نے (یہ مسئلہ) دریافت کیا تو فرمایا: مجھ سے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بڑی عمر کے ہو گئے اور کچھ فربہ بھی،تو آپ کی جائے نماز کے پاس ایک ستون تھا آپ اس کا سہارا لیا کرتے تھے۔
✷قال معاذ علي زئي: إن ثبت اختلاطہ،فقد صحّح الحاكم والذہبي حديث شيبان أبي معاوية عنہ،علی شرط الشيخين (المستدرك: 1/ 264،265 ح 975،المہذب في اختصار السنن الكبير: 2/ 727 ح 3158،إتحاف المہرة: 18/ 297 ح 23661) فثبت أن شيبان بن عبد الرحمن سمع من حصين بن عبد الرحمن قبل اختلاطہ أو تغيّرہ،عند الحاكم والذہبي،وہما أعلم من المعاصرين في زماننا. وقال ابن حجر العسقلاني في حديث شيبان عن حصين متابعةً: ’’ہذا حديث حسن،رجالہ موثّقون‘‘ (الأمالي المطلقة: قبل الحديث رقم 72)