Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 949 (سنن أبي داود)

[949]صحیح

صحیح بخاری (1200) صحیح مسلم (539)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی،حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ،أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ،عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ،قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا يُكَلِّمُ الرَّجُلَ إِلَی جَنْبِہِ فِي الصَّلَاةِ،فَنَزَلَتْ: وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِينَ[البقرة: 238]،فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ،وَنُہِينَا عَنِ الْكَلَامِ.

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ابتدائے اسلام میں) ہمارا ایک ساتھی نماز کے دوران میں اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا۔حتیٰ کہ آیت کریمہ ((وقوموا للہ قانتین)) نازل ہوئی۔’’یعنی اﷲ کے حضور خاموش باادب ہو کے کھڑے ہوا کرو۔‘‘ چنانچہ ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا اور بات چیت سے روک دیا گیا۔