Sunan Abi Dawood Hadith 951 (سنن أبي داود)
[951]صحیح
صحیح بخاری (1115)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا؟ فَقَالَ: صَلَاتُہُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِہِ قَاعِدًا،وَصَلَاتُہُ قَاعِدًا عَلَی النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِہِ قَائِمًا،وَصَلَاتُہُ نَائِمًا عَلَی النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِہِ قَاعِدًا
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت افضل ہے۔اور بیٹھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھی ہوتی ہے۔اور لیٹ کر پڑھنے والے کی نماز بیٹھ کر پڑھنے والے کی نسبت آدھی ہوتی ہے۔‘‘