Sunan Abi Dawood Hadith 964 (سنن أبي داود)
[964]صحیح
انظر الحدیث السابق (732)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ إِبْرَاہِيمَ الْمِصْرِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنِ اللَّيْثِ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ،أَنَّہُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ... بِہَذَا الْحَدِيثِ،وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا قَتَادَةَ, قَالَ: فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ،جَلَسَ عَلَی رِجْلِہِ الْيُسْرَی،فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ, قَدَّمَ رِجْلَہُ الْيُسْرَی وَجَلَسَ عَلَی مَقْعَدَتِہِ.
جناب محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ وہ چند اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔یہی (مذکورہ) حدیث بیان کی۔انہوں نے (یعنی عیسیٰ بن ابراہیم نے) ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا۔کہا کہ جب آپ دو رکعتوں پر بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور جب آخری رکعت ہوتی تو اپنے بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے اور اپنی سرین پر بیٹھ جاتے (جسے تورک کہا جاتا ہے)۔