Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 968 (سنن أبي داود)

[968]صحیح

صحیح بخاری (835) صحیح مسلم (402)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،أَخْبَرَنَا يَحْيَی،عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ،حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ،قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي الصَّلَاةِ, قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَی اللہِ-قَبْلَ عِبَادِہِ-،السَّلَامُ عَلَی فُلَانٍ وَفُلَانٍ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَی اللہِ, فَإِنَّ اللہَ ہُوَ السَّلَامُ،وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّہِ،وَالصَّلَوَاتُ،وَالطَّيِّبَاتُ،السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ! وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ،السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ-, فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ-،أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ-،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ،ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَہُ إِلَيْہِ،فَيَدْعُوَ بِہِ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں بیٹھا کرتے تھے تو کہا کرتے تھے ((السلام علی اللہ قبل عبادہ)) اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے (یا اس کے بندوں کی طرف سے) سلام ہو،سلام ہو فلاں پر،سلام ہو فلاں پر،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ پر سلام مت کہا کرو،اللہ تو خود سراپا سلام ہے۔لیکن جب تم میں سے کوئی بیٹھے تو یوں کہا کرے ((التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک أیہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین)) ’’تمام طرح کی قولی،فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے خاص ہیں۔سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں۔سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک صالح بندوں پر۔‘‘ تم لوگ جب یہ کہو گے تو تمہاری یہ دعا آسمان و زمین اور ان کے درمیان سب صالح بندوں کے لیے ہو گی۔(اس کے بعد یہ کہا کرو۔) ((أشہد أن لا إلہ إلا اللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ)) ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کی محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ پھر چاہیئے کہ دعا کرے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو۔‘‘