Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 969 (سنن أبي داود)

[969]صحیح

أخرجہ النسائي (1164 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ،أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ،عَنْ شَرِيكٍ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ! وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَدْ عُلِّمَ... فَذَكَرَ نَحْوَہُ. قَالَ شَرِيكٌ: وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَدَّادٍ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بِمِثْلِہِ قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ،وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاہُنَّ،كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ: اللہُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا،وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا،وَاہْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ،وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ،وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ،وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا،وَأَبْصَارِنَا،وَقُلُوبِنَا،وَأَزْوَاجِنَا،وَذُرِّيَّاتِنَا،وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ،وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ،مُثْنِينَ بِہَا،قَابِلِيہَا وَأَتِمَّہَا عَلَيْنَا

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہم نہیں جانتے تھے کہ نماز میں جب بیٹھیں تو کیا پڑھیں اور رسول اللہ ﷺ کو سکھایا گیا تھا،پھر انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔جناب شریک نے ((أخبرنا جامع یعنی ابن شداد،عن أبی وائل،‏‏‏‏ عن عبد اللہ)) اسی کی مثل بیان کیا۔کہا: آپ ﷺ ہمیں کئی طرح کے کلمات سکھاتے تھے،مگر جس اہتمام سے کلمات تشہد تعلیم فرماتے تھے،دیگر میں ایسے نہ ہوتا تھا۔(غیر تشہد کے اذکار میں سے یہ بھی ہے) ((اللہم ألف بین قلوبنا وأصلح ذات بیننا واہدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلی النور وجنبنا الفواحش ما ظہر منہا وما بطن وبارک لنا فی أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذریاتنا وتب علینا إنک أنت التواب الرحیم واجعلنا شاکرین لنعمتک مثنین بہا قابلیہا وأتمہا علینا)) ’’اے اللہ! ہمارے دلوں میں (ایک دوسرے کی) الفت پیدا فرما دے اور ہمارے آپس کے روابط کو عمدہ بنا دے،ہمیں سلامتی کے راستوں کی رہنمائی فرما اور اندھیروں سے بچا کر نور میں پہنچا دے،اور تمام طرح کی ظاہری اور چھپی بدکاریوں سے محفوظ رکھ۔ہمارے کانوں،آنکھوں،دلوں،گھر والیوں،(بیویوں) اور بچوں میں برکتیں عطا فرما۔(اے اللہ!) اور ہم پر رجوع فرما (ہماری توبہ قبول فرما) بلاشبہ تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے،ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا بنا دے اور یہ کہ ہم ان کا کما حقہ اعتراف کریں اور انہیں برمحل استعمال میں لائیں اور ان نعمتوں کو ہم پر کامل فرما دے۔‘‘