Sunan Abi Dawood Hadith 972 (سنن أبي داود)
[972]صحیح
صحیح مسلم (404)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ،أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ قَتَادَةَ ح،وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا ہِشَامٌ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ،عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الرَّقَاشِيِّ،قَالَ: صَلَّی بِنَا أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ،فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِہِ, قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ،فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَی أَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ،فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ،فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ،قَالَ: فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَہَا! قَالَ: مَا قُلْتُہَا،وَلَقَدْ رَہِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِہَا،قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُہَا،وَمَا أَرَدْتُ بِہَا إِلَّا الْخَيْرَ! فَقَالَ أَبُو مُوسَی: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا،وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا،وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا،فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ،ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ،فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا،وَإِذَا قَرَأَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْہِمْ وَلَا الضَّالِّينَ[الفاتحة: 7], فَقُولُوا: آمِينَ،يُحِبُّكُمُ اللہُ،وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا, فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ،وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ-قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ:-فَتِلْكَ بِتِلْكَ،وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،فَقُولُوا: اللہُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ: يَسْمَعُ اللہُ لَكُمْ, فَإِنَّ اللہَ تَعَالَی قَالَ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّہِ ﷺ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ, وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا, فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ-قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ:-فَتِلْكَ بِتِلْكَ،فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ, فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: التَّحِيَّاتُ،الطَّيِّبَاتُ،الصَّلَوَاتُ لِلَّہِ،السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ! وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ،السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ. لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ وَبَرَكَاتُہُ وَلَا قَالَ وَأَشْہَدُ قَالَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا
جناب حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی۔نماز کے آخر میں جب بیٹھے تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ برقرار کی گئی۔جب سیدنا ابوموسیٰ نماز سے پھرے تو کہا: کس نے یہ یہ الفاظ کہے ہیں؟ لوگ خاموش رہے۔آپ نے دوبارہ پوچھا کہ یہ یہ الفاظ کس نے کہے ہیں؟ لوگ خاموش رہے تو انہوں نے حطان سے کہا: اے حطان شاید تم نے یہ کہے ہیں؟ میں نے کہا،میں نے نہیں کہے اور مجھے اندیشہ تھا کہ آپ مجھے ہی ڈانٹیں گے۔تب ایک شخص نے کہا: میں نے یہ الفاظ کہے ہیں اور خیر ہی کا ارادہ کیا ہے۔تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اپنی نماز میں تمہیں کیا اور کیسے کہنا ہے؟ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں تعلیم فرمائی اور ہمیں ہماری نماز کا طریقہ سکھایا۔آپ نے فرمایا ’’جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست بناؤ‘‘ تم میں سے کوئی ایک تمہاری جماعت کرائے،جب تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ((غیر المغضوب علیہم ولا الضالین)) کہے تو تم آمین پکارو،اللہ تم سے محبت کرے گا۔اور جب وہ (امام) تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو۔امام تم سے پہلے رکوع کرے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ اس کے بدلے میں ہے اور جب وہ ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہے تو تم کہو ((اللہم ربنا لک الحمد)) اللہ تمہاری سنے گا اور قبول کرے گا۔بلاشبہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا ہے کہ ’’اللہ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے اس کی جو اس کی حمد کرے۔‘‘ اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدے کو جائے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں چلے جاؤ۔امام تم سے پہلے سجدہ کرتا اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’یہ اس کے بدلے میں ہے۔اور جب قعدہ کرے (تشہد میں بیٹھے) تو تمہارے اولین الفاظ یہ ہونے چاہییں ((التحیات الطیبات الصلوات للہ السلام علیک أیہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین أشہد أن لا إلہ إلا اللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ)) جناب احمد نے ((وبرکاتہ)) اور ((أشہد)) کے الفاظ بیان نہیں کیے بلکہ ((وأن محمدا)) کہا۔