Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 975 (سنن أبي داود)

[975] إسنادہ ضعیف

خبیب بن سلیمان مجہول و جعفر بن سعد ضعیف

انوار الصحیفہ ص 47

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ،حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَی أَبُو دَاوُدَ،حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ،عَنْ أَبِيہِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ،عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَمَّا بَعْدُ, أَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِذَا كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ أَوْ حِينَ انْقِضَائِہَا فَابْدَءُوا قَبْلَ التَّسْلِيمِ،فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ،وَالصَّلَوَاتُ،وَالْمُلْكُ لِلَّہِ،ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَی الْيَمِينِ،ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَی قَارِئِكُمْ،وَعَلَی أَنْفُسِكُمْ. قَالَ أَبو دَاود: سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَی كُوفِيُّ الْأَصْلِ كَانَ بِدِمَشْقَ قَالَ أَبو دَاود: دَلَّتْ ہَذِہِ الصَّحِيفَةُ عَلَی أَنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ سَمُرَةَ.

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔امابعد! رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب نماز کی درمیانی قعدہ ہو یا اس کی انتہا تو سلام کہنے سے پہلے (تشہد سے ابتداء کرو اور) کہا کرو: ((التحیات الطیبات والصلوات والملک للہ)) ’’تمام پاکیزہ تعظیمات،اذکار اور ملک اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ پھر دائیں طرف سلام کرو۔پھر اپنے قاری اور اپنے آپ پر سلام کرو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن موسیٰ اصل میں کوفے کے ہیں اور دمشق میں مقیم تھے۔اور یہ صحیفہ دلیل ہے کہ حسن بصری نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔