Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 998 (سنن أبي داود)

[998]صحیح

صحیح مسلم (431)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَكَرِيَّا وَوَكِيعٌ،عَنْ مِسْعَرٍ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ،عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ،قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِہِ مِنْ عَنْ يَمِينِہِ،وَمِنْ،عَنْ يَسَارِہِ،فَلَمَّا صَلَّی, قَال:َ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُومِي بِيَدِہِ, كَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ،إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ –أَوْ: أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ ہَكَذَا-وَأَشَارَ بِأُصْبُعِہِ-،يُسَلِّمُ عَلَی أَخِيہِ مِنْ،عَنْ يَمِينِہِ،وَمِنْ عَنْ شِمَالِہِ!؟

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو سلام کہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے تھے۔جب آپ ﷺ نے نماز پڑھ لی تو فرمایا ’’تمہیں کیا ہوا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے یوں اشارے کرتے ہو گویا سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تمہیں یہی کافی ہے۔‘‘ یا فرمایا ’’کیا تمہارے ایک کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ یوں کرے اور اپنے انگلی سے اشارہ کیا۔اپنے بھائی پر دائیں اور بائیں جانب سلام کہے۔‘‘