zubair ali zai

اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ


اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح، حدیث نمبر 140:

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ ۔))مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

(سیدہ) عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمارے حکم (دین) میں ایسی بات نکالی جو اس میں موجود نہیں تو وہ مردود ہے۔ متفق علیہ

صحیح بخاری (2697) صحیح مسلم (17/ 1718)۔

فقہ الحدیث:

1- دین میں ہر وہ نئی بات جو قرآن، حدیث، اجماع اور آثارِ سلف صالحین سے ثابت نہیں بدعت کہلاتی ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے جیسا کہ آنے والی حدیث (141) میں ہے۔

2- ایک طویل روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ لوگ مسجد میں حلقوں کی صورت میں کنکریوں پر سو دفعہ اللہ أکبر ، سو دفعہ لا إلٰہ إلا اللہ اور سو دفعہ سبحان اللہ پڑھ رہے تھے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انھیں اس حرکت سے منع کر دیا۔ دیکھئے سنن الدارمی (ج 1 ص 286، 287 ح 210 وسندہ حسن)

اس روایت کو سرفراز خان صفدر دیوبندی نے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے راہِ سنت (ص123)

3- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((مَنْ أَحْدَثَ فِی دِینِنَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ ۔))

جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات نکالی جو اس میں موجود نہیں تو وہ مردود ہے۔

(جزء من حدیث لوین: 69 وسندہ صحیح، شرح السنۃ للبغوی: 103، وسندہ حسن)

تنبیہ: حدیثِ لُوَیْن کا حوالہ المکتبۃ الشاملۃ سے لیا گیا ہے۔ (نیز دیکھئے جزء فیہ من حدیث لوین / مطبوع ح 71 وسندہ صحیح)

4- جو شخص کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑتا ہے اور ہر قسم کی بدعات سے دور رہتا ہے تو یہ شخص صراطِ مستقیم پر گامزن اور کامیاب ہے۔

5- مشہور تابعی امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سے پہلے گزرنے والے علماء فرماتے تھے کہ سنت کو مضبوطی سے پکڑنے میں نجات ہے۔ (سنن الدارمی: 97 وسندہ صحیح)

6- تابعی عبداللہ بن فیروز الدیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے پتا چلا ہے کہ دین کے خاتمے کی ابتدا ترکِ سنت سے ہو گی۔ (سنن الدارمی: 98 وسندہ صحیح)

یاد رہے کہ حجت ہونے کے لحاظ سے حدیث اور سنت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں جیسا کہ سلف صالحین اور اصولِ حدیث سے ثابت ہے لہٰذا جو شخص صحیح حدیث کا تارک ہے وہ سنت کا بھی تارک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تارکِ سنت پر لعنت بھیجی ہے۔ دیکھئے سنن الترمذی (2154، وسندہ حسن)

7- جلیل القدر تابعی امام حسان بن عطیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جو قوم بھی اپنے دین میں کوئی بدعت نکالتی ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اُن سے سنتیں اُٹھا لیتا ہے، پھر وہ سنتیں قیامت تک اُن کے پاس واپس نہیں آتیں۔ (سنن الدارمی: 99 وسندہ صحیح)

8- مشہور جلیل القدر تابعی امام اور فقیہ ابو قلابہ عبدللہ بن زید الجرمی رحمہ اللہ نے فرمایا: بدعتی لوگ گمراہ ہیں اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ جہنم میں جائیں گے۔ (سنن الدارمی: 101، وسندہ صحیح)

9- یاد رہے کہ شریعت میں بدعات کا تعلق اُن ایجادات سے ہے جن کا بغیر ادلۂ شرعیہ کے دین میں اضافہ کیا گیا ہے، رہی دنیاوی ایجادات تو ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ حدیث ((أنتم أعلم بأمر دنیا کم ۔)) تم دنیا کے معاملات زیادہ جانتے ہو۔ (صحیح مسلم: 2363، دارالسلام: 6128) کی رُو سے وہ تمام دنیاوی ایجادات جائز ہیں جن کے ذریعے سے شریعت پر کوئی زد نہیں آتی۔

10- حمص شام کے تبع تابعین میں سے ثقہ امام ابو زرعہ یحییٰ بن ابی عمر السیبانی رحمہ اللہ (متوفی 148ھ) فرماتے ہیں: یہ کہا جاتا تھا کہ بدعتی کی توبہ اللہ قبول نہیں کرتا اور (دوسری بات یہ ہے کہ) بدعتی ایک بدعت چھوڑ کر اُس سے زیادہ بُری بدعت میں داخل ہو جاتا ہے۔ (کتاب البدع والنہی عنہا: 144، وسندہ حسن)

معلوم ہوا کہ اگر کوئی بدعتی اپنی بدعت سے لوگوں کے سامنے توبہ کر لے تو پھر بھی کافی عرصے تک اسے زیرِ نگرانی رکھنا چاہئے، کیونکہ عام اہلِ بدعت کا یہی دستور ہے کہ وہ ایک بدعت سے نکل کر دوسری خطرناک بدعت سے دو چار ہو جاتے ہیں۔

اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح، حدیث نمبر 141:

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ((اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ خَیرَ الْحَدِیثِ کِتَابُ اللہِ وَخَیرَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ رضی اللہ عنہا وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔

(سیدنا) جابر (بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أما بعد! بے شک بہترین حدیث کتاب اللہ ہے اور بہترین طریقہ محمد (ﷺ ) کا طریقہ ہے۔ اعمال میں بدعت سب سے بُرا عمل ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح مسلم (43/ 867)۔

فقہ الحدیث:

1- تقریر سے پہلے (اورمسنون خطبے کے بعد) اما بعد کہنا سنت ہے۔

2- حدیثِ رسول کی طرح کتاب اللہ (قرآن) کو حدیث کہنا قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ مثلاً دیکھئے سورۃ الزمر آیت: 23

3- اللہ تعالیٰ کے دربار میں ہر قسم کی بدعت گمراہی، باطل اور مردود ہے۔

4- جو عمل سنت سے ثابت ہو اور عوام میں جاری نہ ہو، پھر اس ثابت شدہ عمل کو دوبارہ جاری کر دیا جائے تو لغوی اعتبار سے اسے بدعت کہا جا سکتا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول ’’نِعْمَ البِدْعَۃُ ہَذِہِ‘‘ یہ اچھی بدعت ہے۔ (صحیح بخاری:2010) کا یہی مطلب ہے لیکن جس عمل کا کتاب و سنت اور ادلۂ شرعیہ میں کوئی ثبوت ہی نہ ہو تو اسے بدعتِ حسنہ قرار دینا غلط ہے۔ شریعت میں بدعتِ حسنہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر بدعت گمراہی ہے۔ اگرچہ (بعض) لوگ اسے اچھا سمجھتے ہوں۔ (السنۃ للمروزی: 82 وسندہ صحیح)

5- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَی ہَدْمِ الْإِسْلَامِ))

جس نے کسی بدعتی کی عزت کی تو اس نے اسلام کے گرانے میں مدد دی۔

(الشریعۃ للآجری ص 962 ح 2040 وسندہ صحیح)

اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور شیخ البانی وغیرہ کا اسے ضعیف قرار دینا غلط ہے۔

ابو الفضل عباس بن یوسف الشکلی مقبول الروایہ راوی ہیں۔ دیکھئے تاریخ الاسلام للذہبی (23/479) اور الوافی بالوفیات (16/373)

6- مشہور تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک شاگرد کو ایک بدعتی کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اس کے پاس ہر گز نہ بیٹھو۔ (سنن الدارمی: 398 وسندہ صحیح)

7- سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بدعتی کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا۔ (سنن الدارمی: 399 وسندہ حسن، وقال الترمذی [2152]: ’’حسن صحیح غریب‘‘)

8- ایک بدعتی نے امام ایوب بن ابی تمیمہ السختیانی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں تو انھوں نے جواب دیا: آدھی بات بھی نہیں، اور انھوں نے اس شخص سے منہ پھیر لیا۔ (سنن الدارمی: 404 وسندہ صحیح، الشریعۃ الآجری ص 963 ح 2046 وسندہ صحیح)

9- مشہور ثقہ امام زائدہ بن قدامہ رحمہ اللہ صرف اہل سنت کو حدیث پڑھاتے تھے، فرماتے ہیں: ’’نحدّث أھل السنۃ‘‘ ہم (صرف) اہل سنت کو حدیثیں سناتے ہیں۔ (تاریخ أبی زرعۃ الدمشقی: 1208، وسندہ صحیح)

10- ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اُمت میں تہتر (73) فرقے ہو جائیں گے جن میں صرف ایک جنتی ہے اور باقی سارے فرقے جہنمی ہیں۔ اسے درج ذیل صحابۂ کرام نے روایت کیا ہے:

الف: عوف بن مالک رضی اللہ عنہ (سنن ابن ماجہ: 3992 وسندہ حسن)

ب: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ (سنن أبی داود: 4597 وسندہ حسن)

ج: ابو امامہ رضی اللہ عنہ(المعجم الکبیر للطبرانی 8/321 ح 8035 وسندہ حسن، السنن الکبریٰ للبیہقی 8/ 188، و سندہ حسن)

اس آخری روایت میں فرقہ ناجیہ السواد الاعظم کو قرار دیا گیا ہے اور حدیث سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں الجماعۃ کا لفظ ہے، ان سب سے مراد صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی جماعتِ حقہ ہے اور یہی السواد الاعظم ہے۔ (نیز دیکھئے کتاب الشریعۃ الآجری ص 14، 15، نسخۃ أخریٰ ص 17)

خیر القرون گزر جانے کے بعد شرالقرون میں بعض مبتدعین کا اپنے آپ کو سوادِ اعظم قرار دینا اسی طرح غلط ہے جس طرح ایک صحیح العقیدہ مسلمان بہت سے گمراہوں کے اکثریتی علاقے میں رہ رہا ہو اور اکثریتی لوگ اس کے مقابلے میں اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

((وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِیْ عَلَی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً))

اور میری اُمت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔

(سنن الترمذی: 2640 وَقَالَ: ’’حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ‘‘ وَ سَنَدُہُ حَسَنٌ وصححہ ابن حبان: 1834، والحاکم 1/128، علیٰ شرط مسلم ووافقہ الذہبی!)

یہ تینوں یا چاروں روایتیں اپنے مفہوم کے ساتھ صحیح لغیرہ ہیں بلکہ بعض علماء نے تہتر فرقوں والی حدیث کو متواتر قرار دیا ہے۔ دیکھئے نظم المتناثر من الحدیث المتواتر للکتانی (ص57 ح 18)

فرقوں والی بعض روایات ذکر کرنے کے بعد امام ابو بکر محمد بن الحسین الآجری رحمہ اللہ (متوفی 360ھ) فرماتے ہیں:

’’رَحِمَ اللَّہُ عَبْدًا حَذِرَ ہَذِہِ الْفِرَقَ، وَجَانَبَ الْبِدَعَ وَاتبع وَلَمْ یَبْتَدِعْ، وَلَزِمَ الْأَثَرَ وَطَلَبَ الطَّرِیقَ الْمُسْتَقِیمَ، وَاسْتَعَانَ بِمَوْلَاہُ الْکَرِیمِ‘‘

اللہ اس بندے پر رحم کرے جس نے ان فرقوں سے ڈرایا اور بدعات سے دُوری اختیار کی، اس نے اتباع کی اور بدعات کی پیروی نہیں کی، اس نے آثار کو لازم پکڑا اور صراطِ مستقیم طلب کی اور اپنے مولیٰ کریم (اللہ) سے مدد مانگی۔

(الشریعۃ ص 18، دوسرا نسخہ ص 20 قبل ح 30)

اصل مضمون کے لئے دیکھیں ماہنامہ الحدیث شمارہ 47 صفحہ 4 اور اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح حدیث نمبر 140 اور 141۔

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

دیگر بلاگ پوسٹس:

  1. ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ
  2. حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملانا؟
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
  4. قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے
  5. قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
  6. نابالغ قارئ قرآن کی امامت
  7. مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
  8. قربانی کے جانور کی شرائط
  9. امام شافعی رحمہ اللہ ضعیف روایات کو حجت نہیں سمجھتے تھے
  10. امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
  11. فضائلِ اذکار
  12. سورة یٰسین کی فضیلت
  13. اللہ کے لئے خدا کا لفظ بالاجماع جائز ہے
  14. رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت — أخبار الفقہاء والمحدثین؟
  15. پانچ فرض نمازوں کی رکعتیں اور سنن و نوافل
  16. اذان اور اقامت کے مسائل
  17. نمازِ جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر کی ادائیگی
  18. قرآن مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے
  19. ائمہ کرام سے اختلاف، دلائل کے ساتھ
  20. نمازِ عید کے بعد ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا
  21. تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
  22. صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال
  23. تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کا ثبوت
  24. تکبیراتِ عیدین
  25. عیدین میں 12 تکبیریں اور رفع یدین
  26. تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے
  27. حالتِ اعتکاف میں جائز اُمور
  28. روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل
  29. اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
  30. صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت (نقدی) کی صورت میں دینا؟
  31. عشرکی ادائیگی اور کھاد، دوائی وغیرہ کا خرچ
  32. کئی سالوں کی بقیہ زکوٰۃ
  33. محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘
  34. نبی کریم ﷺ کی حدیث کا دفاع
  35. رمضان کے روزوں کی قضا اور تسلسل
  36. وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق
  37. ابن عربی صوفی کا رد
  38. روزے کی حالت میں ہانڈی وغیرہ سے چکھنا؟
  39. قیامِ رمضان مستحب ہے
  40. رمضان میں سرکش شیاطین کا باندھا جانا
  41. گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور دلائل
  42. اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا
  43. کیا ’’شرح السنۃ‘‘ کا مطبوعہ نسخہ امام حسن بن علی البربہاری سے ثابت ہے؟
  44. کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے؟
  45. مسنون وضو کا طریقہ، صحیح احادیث کی روشنی میں
  46. پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
  47. دورانِ تلاوت سلام کرنا
  48. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
  49. حق کی طرف رجوع
  50. دعاء کے فضائل و مسائل
  51. سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف
  52. اہلِ حدیث سے مراد ’’محدثینِ کرام اور اُن کے عوام‘‘ دونوں ہیں
  53. نمازِ باجماعت کے لئے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے؟
  54. دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
  55. أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
  56. کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
  57. خوشحال بابا
  58. نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے
  59. کلمۂ طیبہ کا ثبوت
  60. قبر میں نبی کریم ﷺ کی حیات کا مسئلہ
  61. شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا
  62. سیدنا خضر علیہ السلام نبی تھے
  63. دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا بالکل صحیح ہے
  64. سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ؟
  65. کیا امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے تھے؟
  66. دیوبندی حضرات اہلِ سنت نہیں ہیں
  67. اللہ کی نعمت کے آثار بندے پر ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک))
  68. ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
  69. امام مالک اور نماز میں فرض، سنت و نفل کا مسئلہ
  70. اللہ کی معیت و قربت سے کیا مراد ہے؟
  71. سلف صالحین کے بارے میں آلِ دیوبند کی گستاخیاں
  72. ’’ماں کی نافرمانی کی سزا دُنیا میں‘‘ … ایک من گھڑت روایت کی تحقیق
  73. عالَمِ خواب اور نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کی تین صحیح روایات اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے
  74. مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش
  75. ورثاء کی موجودگی میں ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے
  76. موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں
  77. دعوتِ حق کے لئے مناظرہ کرنا
  78. قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
  79. حدیث کا منکر جنت سے محروم رہے گا
  80. یہ کیسا فضول تفقہ ہے جس کے بھروسے پر بعض لوگ اپنے آپ کو فقیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔!!
  81. بغیر شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا
  82. سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتبِ وحی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
  83. اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
  84. فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کہنا حدیث سے ثابت ہے
  85. اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل کر دے
  86. جمعہ کے دن مقبولیتِ دعا کا وقت؟
  87. نظر بد سے بچاؤ کے لئے دھاگے اور منکے وغیرہ لٹکانا؟
  88. ایک دوسرے کو سلام کہنا
  89. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت
  90. صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے
  91. امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود رحمہ اللہ کے اشعار
  92. قمیص میں بند گلا ہو یا کالر، دونوں طرح جائز ہے
  93. امام ابوبکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کا عظیم الشان حافظہ
  94. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عورت کے بھوکے بچوں کا قصہ
  95. نبی کریم ﷺ کا اپنے اُمتیوں سے پیار
  96. یہ نہیں کرنا کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
  97. رفع الیدین کی مرفوع و صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار
  98. نبی ﷺ کی سنت یعنی حدیث کے مقابلے میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے
  99. تجھے تو اچھی طرح سے نماز پڑھنی ہی نہیں آتی!
  100. سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
  101. کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
  102. اہلِ حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو
  103. نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا سنت؟
  104. رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا احترام
  105. محرم کے بعض مسائل
  106. جنات کا وجود ایک حقیقت ہے
  107. سلف صالحین اور علمائے اہلِ سنت
  108. نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے والا جہنم میں جائے گا
  109. بے سند اقوال سے استدلال غلط ہے
  110. قربانی کے چار یا تین دن؟
  111. حالتِ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر تلاوت کرنا
  112. قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط
  113. پوری اُمت کبھی بالاجماع شرک نہیں کرے گی
  114. قادیانیوں اور فرقۂ مسعودیہ میں 20 مشترکہ عقائد
  115. قربانی کے احکام و مسائل با دلائل
  116. مکمل نمازِ نبوی ﷺ - صحیح احادیث کی روشنی میں
  117. نبی کریم ﷺ نے سیدنا جُلَیبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ھذا مني وأنا منہ‘‘
  118. کلید التحقیق: فضائلِ ابی حنیفہ کی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر
  119. گھروں میں مجسمے رکھنا یا تصاویر لٹکانا یا تصاویر والے کپڑے پہننا
  120. اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے
  121. اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے
  122. رسول اللہ ﷺ اور بعض غیب کی اطلاع
  123. خطبۂ جمعہ کے چالیس مسائل
  124. خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی یہ کہے کہ ’’چپ کر‘‘ تو ایسا کہنے والے نے بھی لغو یعنی باطل کام کیا
  125. عید کے بعض مسائل
  126. روزہ افطار کرنے کے بارے میں مُسَوِّفین (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے نہ ہونا
  127. اُصولِ حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم
  128. رمضان کے آخری عشرے میں ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو
  129. جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
  130. اللہ تعالیٰ کا احسان اور امام اسحاق بن راہویہ کا حافظہ
  131. اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں
  132. دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے (رمضان المبارک کے بعض مسائل)
  133. شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے
  134. کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
  135. طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتوں کی تحقیق
  136. اطلبوا العلم ولو بالصین - تم علم حاصل کرو، اگرچہ وہ چین میں ہو
  137. مونچھوں کے احکام و مسائل
  138. ضعیف روایات اور اُن کا حکم
  139. نماز باجماعت کا حکم
  140. چالیس حدیثیں یاد کرنے والی روایت
  141. نظر کا لگ جانا برحق ہے
  142. کتاب سے استفادے کے اصول
  143. حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی امام بخاری رحمہ اللہ تک سند
  144. سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے چند پہلو
  145. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
  146. چند فقہی اصطلاحات کا تعارف
  147. جو آدمی کوئی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے سپرد کیا جائے گا
  148. کلامی لا ینسخ کلام اللہ – والی روایت موضوع ہے
  149. گانے بجانے اور فحاشی کی حرمت
  150. نفل نمازوں کے فضائل و مسائل
  151. مساجد میں عورتوں کی نماز کے دس دلائل
  152. ایک صحیح العقیدہ یعنی اہل حدیث بادشاہ کا عظیم الشان قصہ
  153. نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
  154. نبی کریم ﷺ کے معجزے
  155. سجدے کی حالت میں ایڑیوں کا ملانا آپ ﷺ سے باسند صحیح ثابت ہے
  156. باجماعت نماز میں صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز
  157. نمازِ تسبیح / صلوٰۃ التسبیح
  158. کیا ملک الموت علیہ السلام کا نام یعنی ’’عزرائیل‘‘ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے؟
  159. ختمِ نبوت پر چالیس (40) دلائل
  160. چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں
  161. وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات
  162. جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے
  163. سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں
  164. اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
  165. ماہِ صفر کے بعض مسائل
  166. محمد رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک
  167. ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے
IshaatulHadith Hazro © 2020 (websites) - contact us