zubair ali zai

قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ


الحمد رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ الأمین، أما بعد:

عیدالاضحی کے موقع پر جو قربانی کی جاتی ہے، اس کے بعض احکام و مسائل پیشِ خدمت ہیں:

نمبر 1:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((إذا رأیتم ھلال ذی الحجۃ و أراد أحدکم أن یضحّی فلیمسک عن شعرہ و أظفارہ))

جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے بال اور ناخن تراشنے سے رُک جانا چاہئے۔

(صحیح مسلم: 1977، ترقیم دارالسلام: 5119)

اس حدیث میں ’’ارادہ کرے‘‘ سے ظاہر ہے کہ قربانی کرنا واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔ دیکھئے المحلّی لابن حزم (7/ 355 مسئلہ: 973)

درج بالا حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لئے ناخن تراشنا اور بال مونڈنا منڈوانا، تراشنا ترشوانا جائز نہیں ہے۔

سیدنا ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر الصدیق اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دونوں میرے پڑوسی تھے اور دونوں قربانی نہیں کرتے تھے۔ (معرفۃ السنن والآثار للبیہقی 7/198 ح 5633 وسندہ حسن، وحسنہ النووی فی المجموع شرح المہذب 8/383، وقال ابن کثیر فی مسند الفاروق 1/332: ’’وھذا اسناد صحیح‘‘)

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قربانی سنت ہے، واجب نہیں ہے اور جو شخص اس کی استطاعت رکھے تو میں پسند نہیں کرتا کہ وہ اسے ترک کر دے۔ (الموطأ 2/ 487 تحت ح 1073)

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: قربانی کرنا سنت ہے، میں اسے ترک کرنا پسند نہیں کرتا۔ (کتاب الام ج1ص 221)

نیز دیکھئے المغنی لابن قدامہ (9/ 345 مسئلہ: 7851)

امام بخاری نے فرمایا: ’’باب سنۃ الأضحیۃ‘‘ (صحیح بخاری قبل ح 5545)

نمبر 2:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((من کان لہ سعۃ ولم یضحّ فلا یقر بنّ مصلانا))

جس آدمی کے پاس طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ: 3123 وسندہ حسن، وصححہ الحاکم 4/ 232 ووافقہ الذہبی ورواہ احمد 2 / 321)

اس روایت میں عبداللہ بن عیاش المصری مختلف فیہ راوی ہیں جن پر کبار علماء وغیرہم نے جرح کی اور جمہور نے توثیق کی، تقریباً پانچ اور چھ کا مقابلہ ہے۔!

روایتِ مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قربانی کا استخفاف و توہین کرتے ہوئے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے تو اسے مسلمانوں کی عیدگاہ سے دور رہنا چاہئے یعنی یہ روایت قربانی کے استحباب وسُنیت پر محمول اور منکرینِ حدیث کا رد ہے۔

نمبر 3:

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر مجھے صرف مادہ قربانی (دودھ دینے والا جانور) ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراشو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں تمھاری یہ پوری قربانی ہے۔ (سنن ابی داود: 2789 وسندہ حسن، وصححہ ابن حبان، الموارد: 1043، والحاکم 4/ 223 والذہبی)

اس حدیث کے راوی عیسیٰ بن ہلال الصدفی صدوق ہیں۔ دیکھئے تقریب التہذیب (5337)

انھیں یعقوب بن سفیان الفارسی (المعرفۃ و التاریخ 2/ 515، 487) اور ابن حبان وغیرہما نے ثقہ قرار دیا ہے۔ ایسے راوی کی روایت حسن کے درجے سے کبھی نہیں گرتی۔

عیاش بن عباس القتبانی ثقہ تھے۔ دیکھئے التقریب (5269)

باقی سند صحیح ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اگر ذوالحجہ کے چاند سے لے کر نمازِ عید سے فارغ ہونے تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے قربانی کا ثواب ملتا ہے۔

نمبر 4:

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((لا تذبحوا إلا مسنۃ إلا أن یعسر علیکم فتذبحوا جذعۃ من الضأن))

دو دانتوں والے (دوندے) جانور کے علاوہ ذبح نہ کرو اِلا یہ کہ تم پر تنگی ہو جائے تو دُنبے کا جذعہ ذبح کردو۔ (صحیح مسلم: 1963، ترقیم دارالسلام: 5082)

بکری (یا بھیڑ) کے اس بچے کو ’’جذعہ‘‘ کہتے ہیں جو آٹھ یا نو ماہ کا ہو گیا ہو۔ دیکھئے القاموس الوحید (ص243)

حافظ ابن حجر نے فرمایا: جمہور کے نزدیک بھیڑ (دُنبے) کا جذعہ اسے کہتے ہیں جس نے ایک سال پورا کر لیا ہو۔ (فتح الباری 10/ 5 تحت ح 5547)

بہتر یہی ہے کہ ایک سال کا جذعہ بھیڑ میں سے ہو، ورنہ آٹھ نو ماہ کابھی جائز ہے۔ واللہ اعلم

تنبیہ بلیغ: صحیح مسلم کی اس حدیث پر عصرِ حاضر کے شیخ البانی رحمہ اللہ کی جرح (دیکھئے الضعیفۃ: 65، ارواء الغلیل: 1145) مردود ہے۔

مستدرک الحاکم (4/ 226 ح 7538 وسندہ صحیح) کی حدیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسنہ نہ ہونے کی حالت میں جذعہ کی قربانی کافی ہے۔

نمبر 5:

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((أربع لا تجوز فی الأضاحي: العوراء بیّن عورھا والمریضۃ بیّن مرضھا والعرجاء بیّن ظلعھا والکسیر التي لا تنقي))

چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے: ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور بہت زیادہ کمزور جانور جو کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو۔

(اس حدیث کے راوی عبید بن فیروز تابعی نے) کہا: مجھے ایسا جانور بھی ناپسند ہے جس کے دانت میں نقص ہو؟ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمھیں جو چیز بُری لگے اُسے چھوڑ دو اور دوسروں پر اُسے حرام نہ کرو۔

(سنن ابی داود: 2802)

اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے ترمذی (1497) ابن خزیمہ (2912) ابن حبان (1046، 1047) ابن الجارود (481، 907) حاکم (1/ 467، 468) اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔

معلوم ہوا کہ جس چیز کے بارے میں دل میں شبہ ہو اور اسی طرح مشکوک چیزوں سے بچنا جائز ہے۔

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ نے سینگ کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔

مشہور تابعی امام سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ایسا جانور جس کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو۔

(سنن النسائی 7/217، 218 ح 4382 وسندہ حسن و صححہ الترمذی: 1504)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت میں آیا ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی کے جانور میں) آنکھ اور کان دیکھیں۔

(سنن النسائی 7/217 ح 4381 وسندہ حسن وصححہ الترمذی: 1503، وابن خزیمہ: 2914 وابن حبان، الاحسان: 5890 والحاکم 4/ 225 والذہبی)

ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کانے، لنگڑے، واضح بیمار، بہت زیادہ کمزور، سینگ (ٹوٹے یا) کٹے اور کان کٹے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔

علامہ خطابی (متوفی 388ھ) نے فرمایا:

اس (سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ) حدیث میں دلیل ہے کہ قربانی میں معمولی نقص معاف ہے۔ الخ (معالم السنن 2/ 199 تحت ح683)

معلوم ہوا کہ اگر سینگ میں معمولی نقص ہو یا تھوڑا سا کٹا یا ٹوٹا ہوا ہو تو اس جانور کی قربانی جائز ہے۔

نووی نے کہا:

اس پر اجماع ہے کہ اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ (المجموع شرح المہذب 8/ 404)

نمبر 6:

رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ قربانی کا گوشت، کھا لیں اور جھولیں لوگوں میں تقسیم کر دیں اور قصاب کو اُس میں سے (بطورِ اجرت) کچھ بھی نہ دیں۔ دیکھئے صحیح بخاری (1717) و صحیح مسلم (1317)اور یہی مضمون فقرہ نمبر 27

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو جانور اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے (مثلاً قربانی اور عقیقہ) اس کا بیچنا جائز نہیں ہے۔ دیکھئے شرح السنۃ للبغوی (7/188ح 1951)

نمبر 7:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ نے دو سفید و سیاہ اور سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے ذبح فرمائے، آپ نے تسمیہ و تکبیر (بسم اللہ واللہ اکبر) کہی اور اپنا پاؤں اُن کی گردنوں پر رکھا۔ (صحیح مسلم: 1966، ترقیم دارالسلام: 5087، صحیح بخاری: 5564)

آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ چُھری کو پتھر سے تیز کرو۔ پھر آپ نے مینڈھے کو لٹا کر ذبح کیا اور فرمایا: بسم اللہ، اے میرے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد (ﷺ) کی طرف سے قبول فرما۔ (صحیح مسلم: 1967، دارالسلام: 5091)

نمبر 8:

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ والے سال سات (آدمیوں) کی طرف سے (ایک) اونٹ اور سات کی طرف سے (ایک) گائے ذبح کی۔ (صحیح مسلم: 1318، ترقیم دارالسلام: 3185)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اضحی(عید قربان) آ گئی تو ہم نے (ایک) گائے میں سات (آدمی) اور (ایک) اونٹ میں دس (آدمی) شریک کئے۔ (سنن الترمذی: 1501، وقال: ’’حسن غریب‘‘ الخ وسندہ حسن)

ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اونٹ میں سات یا دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور گائے میں صرف سات حصہ دار ہوتے ہیں۔ بکری اور مینڈھے میں اتفاق ہے کہ صرف ایک آدمی کی طرف سے ہی کافی ہے۔

حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سفر میں قربانی کرنا جائز ہے۔

نمبر 9:

نمازِ عید کے بعد قربانی کرنی چاہئے۔ دیکھئے صحیح بخاری (5545) و صحیح مسلم (1961)

عید کی نماز سے پہلے قربانی جائز نہیں ہے۔ نیزدیکھئے فقرہ نمبر 24

نمبر 10:

سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:

مسلمانوں میں سے کوئی (مدینہ میں) اپنی قربانی خریدتا تو اسے (کھلا پلا کر) موٹا کرتا پھر اضحی کے بعد آخری ذوالحجہ (!) میں اسے ذبح کرتا تھا۔ (المستخرج لابی نعیم بحوالہ تغلیق التعلیق 5/6 وسندہ صحیح، وقال احمد: ’’ھذا الحدیث عجب‘‘ صحیح البخاری قبل ح 5553 تعلیقاً)

تنبیہ: ’’مدینہ میں‘‘ والے الفاظ صحیح بخاری میں ہیں۔

نمبر 11:

میت کی طرف سے قربانی کا ذِکر جس حدیث میں آیا ہے وہ شریک القاضی اور حکم بن عتیبہ دو مدلسین کی تدلیس (عن سے روایت کرنے) اور ابو الحسناء مجہول کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے سنن ابی داود (2790 بتحقیقی) سنن الترمذی (1495) اور اضواء المصابیح (1462)

تاہم صدقے کے طور پر میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے لہٰذا اس قربانی کا سارا گوشت اور کھال وغیرہ مسکین یا مساکین کو صدقے میں دینا ضروری ہے۔

تنبیہ: عام قربانی (جو صدقہ نہ ہو) کی کھال خود استعمال میں لائیں یا کسی دوست کو تحفہ دے دیں، یا کسی مسکین کو صدقہ کر دیں لیکن یاد رہے کہ زکوٰۃ کی آٹھ اقسام میں قربانی کی کھالیں تقسیم کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

نمبر 12:

سیدنا ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

ہم ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے، آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھرو الوں کی طرف سے (ایک بکری قربان کرتا تھا) پھر بعد میں لوگوں نے ایک دوسرے پر فخر (اور ریس) کرنا شروع کر دیا۔

(موطأ امام مالک ج2ص 486 ح 1069، وسندہ صحیح، النسخۃ الباکستانیہ ص 497، السنن الکبریٰ للبیہقی 9/268، سنن الترمذی: 1505، وقال: ’’حسن صحیح‘‘ سنن ابن ماجہ: 3147 وصححہ النووی فی المجموع شرح المہذب 8/ 384)

سنن ابن ماجہ وغیرہ میں اس بات کی صراحت ہے کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کا یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوتا تھا۔ (وسندہ حسن)

معلوم ہوا کہ اگر گھر کا سربراہ یا کوئی آدمی ایک قربانی کر دے تو وہ سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے۔

نمبر 13:

عید گاہ میں قربانی کرنا جائز ہے اور عید گاہ کے باہر اپنے گھر وغیرہ میں قربانی کرنا بھی جائز ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (5552، 5551)

نمبر 14:

قربانی کا جانور خود ذبح کرنا سنت ہے اور دوسرے سے ذبح کروانا بھی جائز ہے۔ دیکھئے الموطأ (روایۃ ابن القاسم: 145، بتحقیقی و سندہ صحیح، السنن الصغریٰ للنسائی 7/231 ح4424، مسند احمد 3/ 388)

نمبر 15:

رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائیں ذبح کی تھیں۔ (صحیح بخاری: 5559، صحیح مسلم: 1211)

تنبیہ: جن روایات میں آیا ہے کہ گائے کے گوشت میں بیماری ہے، اُن میں سے ایک بھی صحیح ثابت نہیں ہے۔

نمبر 16:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

بنو تغلب والے عیسائیوں کے ذبیحے نہ کھاؤ کیونکہ وہ اپنے دین میں سے سوائے شراب نوشی کے کسی پر بھی قائم نہیں ہیں۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی 9/ 284 وسندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ مرتدین اور ملحدین کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔

نمبر 17:

قربانی کا گوشت خود کھانا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے۔ نیز دیکھئے فقرہ نمبر 19

نمبر 18:

ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ میں قربانی کی اور سر منڈوایا، آپ فرماتے تھے:

جو شخص حج نہ کرے اور قربانی کرے تو اُس پر سر منڈوانا واجب نہیں ہے۔

(السنن الکبریٰ للبیہقی 9/ 288 وسندہ صحیح، الموطأ 2/483 ح 1062)

نمبر 19:

قربانی کا گوشت خود کھانا، دوستوں رشتہ داروں کو کھلانا اور غریبوں کو تحفتاً دینا تینوں طرح جائز ہے۔ مثلاً دیکھئے سورۃ الحج (آیت نمبر 28، 36، اور فتاویٰ ابن تیمیہ 26/309 وغیرہ)

نمبر 20:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:

جو شخص قربانی کے جانور (بیت اللہ کی طرف) روانہ کرے پھر وہ گم ہو جائیں، اگر نذر تھی تو اسے دوبارہ بھیجنے پڑیں گے اور اگر نفلی قربانی تھی تو اس کی مرضی ہے دوبارہ قربانی کر ے یا نہ کرے۔ (السنن الکبریٰ 9/ 289 وسندہ صحیح)

نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث: 52 ص 12، 13

نمبر 21:

سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے جانوروں میں ایک کانی اونٹنی دیکھی تو فرمایا:

اگر یہ خریدنے کے بعد کانی ہوئی ہے تو اس کی قربانی کر لو اور اگر خریدنے سے پہلے یہ کانی تھی تو اسے بدل کر دوسری اونٹنی کی قربانی کرو۔ (السنن الکبریٰ 9/ 289 وسندہ صحیح)

نمبر 22:

قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ قبلہ رخ ہونا چاہئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اس ذبیحے کا گوشت کھانا مکروہ سمجھتے تھے جسے قبلہ رخ کئے بغیر ذبح کیا جاتا تھا۔ (مصنف عبدالرزاق 4/ 489 ح 8585 وسندہ صحیح)

نمبر 23:

منکرینِ حدیث قربانی کی سنیت کے منکر ہیں حالانکہ متواتر احادیث و آثار سے قربانی کا سنت ہونا ثابت ہے اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ ہر جاندار میں ثواب ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (2363) وصحیح مسلم (2244)

نمبر 24:

اگر قربانی کا ارادہ رکھنے والا کوئی شخص ناخن یا بال کٹوا دے اور پھر قربانی کرے تو اس کی قربانی ہو جائے گی لیکن وہ گناہگار ہوگا۔ (الشرح الممتع علیٰ زاد المستقنع لابن عثیمین 3/430)

نمبر 25:

قربانی ذبح کرنے والا اور شرکت کرنے والے حصہ دار سب صحیح العقیدہ ہونے چاہئیں۔

نمبر 26:

اگر کسی کی طرف سے قربانی کی جائے تو ذبح کے وقت اس کا نام لیتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ یہ قربانی اس (فلاں) کی طرف سے ہے۔

نمبر 27:

قولِ راجح میں قربانی کے تین دن ہیں۔ دیکھئے الحدیث: 44 ص 6 تا11

قربانی کے بارے میں اجماعی مسائل:

آخر میں قربانی کے بارے میں امام ابن المنذر النیسابوری کی مشہور کتاب الاجماع سے اجماعی مسائل پیشِ خدمت ہیں:

1- اجماع ہے کہ قربانی کے دن طلوع فجر (صبح صادق) سے پہلے قربانی جائز نہیں۔

2- اجماع ہے کہ قربانی کا گوشت مسلمان فقیروں کو کھلانا مباح ہے۔

3- اجماع ہے کہ اگر جائز آلہ سے قربانی کرے، بسم اللہ پڑھے، حلق اور دونوں رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے، تو ایسے قربان شدہ جانور کا کھانا مباح ہے۔

4- اجماع ہے کہ گونگے کا ذبیحہ جائز ہے۔

5- اجماع ہے کہ ذبیحہ کے پیٹ سے بچہ مردہ برآمد ہو تو اسکی ماں کی قربانی اس کے لئے کافی ہو گی۔

6- اجماع ہے کہ عورتوں اور بچوں کا ذبیحہ مباح ہے اگر صحیح طریقہ سے ذبح کر سکیں۔

7- اجماع ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ ہمارے لئے حلال ہے اگر بسم اللہ پڑھ کر ذبح کریں۔

8- اجماع ہے کہ دارالحرب میں مقیم (اہل کتاب) کا ذبیحہ حلال ہے۔

9- اجماع ہے کہ مجوس کا ذبیحہ حرام ہے، کھایا نہیں جائے گا۔

10- اجماع ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں اور بچوں کا ذبیحہ حلال ہے (بسم اللہ کی شرط کے ساتھ)

(دیکھئے کتاب الاجماع ص 52، 53، مترجم ابو القاسم عبدالعظیم)

اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 122، صفحہ 17 تا 25

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

دیگر بلاگ پوسٹس:

  1. ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ
  2. حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملانا؟
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
  4. قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے
  5. قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
  6. نابالغ قارئ قرآن کی امامت
  7. مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
  8. قربانی کے جانور کی شرائط
  9. امام شافعی رحمہ اللہ ضعیف روایات کو حجت نہیں سمجھتے تھے
  10. امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
  11. فضائلِ اذکار
  12. سورة یٰسین کی فضیلت
  13. اللہ کے لئے خدا کا لفظ بالاجماع جائز ہے
  14. رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت — أخبار الفقہاء والمحدثین؟
  15. پانچ فرض نمازوں کی رکعتیں اور سنن و نوافل
  16. اذان اور اقامت کے مسائل
  17. نمازِ جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر کی ادائیگی
  18. قرآن مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے
  19. ائمہ کرام سے اختلاف، دلائل کے ساتھ
  20. نمازِ عید کے بعد ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا
  21. تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
  22. صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال
  23. تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کا ثبوت
  24. تکبیراتِ عیدین
  25. عیدین میں 12 تکبیریں اور رفع یدین
  26. تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے
  27. حالتِ اعتکاف میں جائز اُمور
  28. روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل
  29. اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
  30. صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت (نقدی) کی صورت میں دینا؟
  31. عشرکی ادائیگی اور کھاد، دوائی وغیرہ کا خرچ
  32. کئی سالوں کی بقیہ زکوٰۃ
  33. محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘
  34. نبی کریم ﷺ کی حدیث کا دفاع
  35. رمضان کے روزوں کی قضا اور تسلسل
  36. وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق
  37. ابن عربی صوفی کا رد
  38. روزے کی حالت میں ہانڈی وغیرہ سے چکھنا؟
  39. قیامِ رمضان مستحب ہے
  40. رمضان میں سرکش شیاطین کا باندھا جانا
  41. گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور دلائل
  42. اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا
  43. کیا ’’شرح السنۃ‘‘ کا مطبوعہ نسخہ امام حسن بن علی البربہاری سے ثابت ہے؟
  44. کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے؟
  45. مسنون وضو کا طریقہ، صحیح احادیث کی روشنی میں
  46. پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
  47. دورانِ تلاوت سلام کرنا
  48. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
  49. حق کی طرف رجوع
  50. دعاء کے فضائل و مسائل
  51. سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف
  52. اہلِ حدیث سے مراد ’’محدثینِ کرام اور اُن کے عوام‘‘ دونوں ہیں
  53. نمازِ باجماعت کے لئے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے؟
  54. دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
  55. أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
  56. کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
  57. خوشحال بابا
  58. نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے
  59. کلمۂ طیبہ کا ثبوت
  60. قبر میں نبی کریم ﷺ کی حیات کا مسئلہ
  61. شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا
  62. سیدنا خضر علیہ السلام نبی تھے
  63. دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا بالکل صحیح ہے
  64. سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ؟
  65. کیا امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے تھے؟
  66. دیوبندی حضرات اہلِ سنت نہیں ہیں
  67. اللہ کی نعمت کے آثار بندے پر ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک))
  68. ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
  69. امام مالک اور نماز میں فرض، سنت و نفل کا مسئلہ
  70. اللہ کی معیت و قربت سے کیا مراد ہے؟
  71. سلف صالحین کے بارے میں آلِ دیوبند کی گستاخیاں
  72. ’’ماں کی نافرمانی کی سزا دُنیا میں‘‘ … ایک من گھڑت روایت کی تحقیق
  73. عالَمِ خواب اور نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کی تین صحیح روایات اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے
  74. مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش
  75. ورثاء کی موجودگی میں ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے
  76. موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں
  77. دعوتِ حق کے لئے مناظرہ کرنا
  78. قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
  79. حدیث کا منکر جنت سے محروم رہے گا
  80. یہ کیسا فضول تفقہ ہے جس کے بھروسے پر بعض لوگ اپنے آپ کو فقیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔!!
  81. بغیر شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا
  82. سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتبِ وحی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
  83. اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
  84. فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کہنا حدیث سے ثابت ہے
  85. اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل کر دے
  86. جمعہ کے دن مقبولیتِ دعا کا وقت؟
  87. نظر بد سے بچاؤ کے لئے دھاگے اور منکے وغیرہ لٹکانا؟
  88. ایک دوسرے کو سلام کہنا
  89. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت
  90. صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے
  91. امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود رحمہ اللہ کے اشعار
  92. قمیص میں بند گلا ہو یا کالر، دونوں طرح جائز ہے
  93. امام ابوبکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کا عظیم الشان حافظہ
  94. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عورت کے بھوکے بچوں کا قصہ
  95. نبی کریم ﷺ کا اپنے اُمتیوں سے پیار
  96. یہ نہیں کرنا کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
  97. رفع الیدین کی مرفوع و صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار
  98. نبی ﷺ کی سنت یعنی حدیث کے مقابلے میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے
  99. تجھے تو اچھی طرح سے نماز پڑھنی ہی نہیں آتی!
  100. سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
  101. کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
  102. اہلِ حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو
  103. نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا سنت؟
  104. رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا احترام
  105. محرم کے بعض مسائل
  106. جنات کا وجود ایک حقیقت ہے
  107. سلف صالحین اور علمائے اہلِ سنت
  108. نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے والا جہنم میں جائے گا
  109. بے سند اقوال سے استدلال غلط ہے
  110. قربانی کے چار یا تین دن؟
  111. حالتِ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر تلاوت کرنا
  112. قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط
  113. پوری اُمت کبھی بالاجماع شرک نہیں کرے گی
  114. قادیانیوں اور فرقۂ مسعودیہ میں 20 مشترکہ عقائد
  115. قربانی کے احکام و مسائل با دلائل
  116. مکمل نمازِ نبوی ﷺ - صحیح احادیث کی روشنی میں
  117. نبی کریم ﷺ نے سیدنا جُلَیبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ھذا مني وأنا منہ‘‘
  118. کلید التحقیق: فضائلِ ابی حنیفہ کی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر
  119. گھروں میں مجسمے رکھنا یا تصاویر لٹکانا یا تصاویر والے کپڑے پہننا
  120. اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے
  121. اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے
  122. رسول اللہ ﷺ اور بعض غیب کی اطلاع
  123. خطبۂ جمعہ کے چالیس مسائل
  124. خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی یہ کہے کہ ’’چپ کر‘‘ تو ایسا کہنے والے نے بھی لغو یعنی باطل کام کیا
  125. عید کے بعض مسائل
  126. روزہ افطار کرنے کے بارے میں مُسَوِّفین (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے نہ ہونا
  127. اُصولِ حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم
  128. رمضان کے آخری عشرے میں ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو
  129. جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
  130. اللہ تعالیٰ کا احسان اور امام اسحاق بن راہویہ کا حافظہ
  131. اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں
  132. دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے (رمضان المبارک کے بعض مسائل)
  133. شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے
  134. کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
  135. طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتوں کی تحقیق
  136. اطلبوا العلم ولو بالصین - تم علم حاصل کرو، اگرچہ وہ چین میں ہو
  137. مونچھوں کے احکام و مسائل
  138. ضعیف روایات اور اُن کا حکم
  139. نماز باجماعت کا حکم
  140. چالیس حدیثیں یاد کرنے والی روایت
  141. نظر کا لگ جانا برحق ہے
  142. کتاب سے استفادے کے اصول
  143. حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی امام بخاری رحمہ اللہ تک سند
  144. سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے چند پہلو
  145. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
  146. چند فقہی اصطلاحات کا تعارف
  147. جو آدمی کوئی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے سپرد کیا جائے گا
  148. کلامی لا ینسخ کلام اللہ – والی روایت موضوع ہے
  149. گانے بجانے اور فحاشی کی حرمت
  150. نفل نمازوں کے فضائل و مسائل
  151. مساجد میں عورتوں کی نماز کے دس دلائل
  152. ایک صحیح العقیدہ یعنی اہل حدیث بادشاہ کا عظیم الشان قصہ
  153. نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
  154. نبی کریم ﷺ کے معجزے
  155. سجدے کی حالت میں ایڑیوں کا ملانا آپ ﷺ سے باسند صحیح ثابت ہے
  156. باجماعت نماز میں صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز
  157. نمازِ تسبیح / صلوٰۃ التسبیح
  158. کیا ملک الموت علیہ السلام کا نام یعنی ’’عزرائیل‘‘ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے؟
  159. ختمِ نبوت پر چالیس (40) دلائل
  160. چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں
  161. وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات
  162. جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے
  163. سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں
  164. اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
  165. ماہِ صفر کے بعض مسائل
  166. محمد رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک
  167. ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے
IshaatulHadith Hazro © 2020 (websites) - contact us